امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی کردی۔ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد توانائی کی قیمتیں بہت کم ہونی چاہئیں۔
امریکی چینل کو دیےگئے انٹرویو میں انہوں نے مستقبل میں مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی توانائی برآمدات اب بلند سطح پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائیگی،ایران
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکی توانائی برآمدات کو صرف انفرا اسٹرکچر کی کمی روک رہی ہے، امریکا توانائی کی منڈیوں میں بڑا فاتح ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے مزید جہاز گزرتے دیکھے تو حیرانی نہیں ہوگی، ایران کو جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی کوششوں سے زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے صدر کے ساتھ آئندہ ملاقات میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہاکہ امریکہ ایران کی قیادت کا ’معاشی ناکہ بندی‘کے ذریعے دم گھونٹ رہا ہے جو امریکی فوجی کارروائی کے ساتھ شروع کی گئی ہے۔
یہ حکمتِ عملی گذشتہ مارچ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کے حکم سے شروع ہوئی، اور تین ہفتے قبل انہیں ’اکنامک فیوری‘ کے نام سے ایک نئی مہم شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا
انہوں نے کہاکہ ہم اس نظام کو گھٹن میں لا رہے ہیں، اور وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہے۔ یہ ایک حقیقی معاشی ناکہ بندی ہےاور حکومت کے ہر شعبے میں اس پر عمل ہو رہا ہے۔
ایران اور امریکہ دونوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جو خلیج سے توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔




