لاہور کے علاقے بیگم کوٹ سے ایک نہایت افسوسناک اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شیر کو بے دردی سے ہلاک کر کے اس کی کھال اتار دی گئی ۔
اس واقعے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں ملزمان کو بلا خوف و خطر یہ غیرقانونی عمل کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد متعلقہ حکام حرکت میں آئے اور وائلڈ لائف رینجرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگا لیا ۔
حکام کے مطابق اس کیس میں مرکزی ملزم، جس کی شناخت ہارون کے نام سے ہوئی ہے، کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم گروہ کی سرگرمی ہے جو عرصہ دراز سے مردہ جنگلی جانوروں کی کھالیں اتارنے اور انہیں غیرقانونی طور پر حنوط (ٹیکسیڈرمی) کرنے میں ملوث رہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: علاج کے بعد صحت یاب ہونے والا تیندوا دوبارہ قدرتی ماحول میں رہا
مزید تفتیش کے دوران ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، جہاں سے بڑی تعداد میں مختلف جانوروں کے حنوط شدہ نمونے برآمد ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس غیرقانونی کاروبار میں تین سے چار خاندان شامل تھے، جو باقاعدہ طور پر اس کام کو چلا رہے تھے ۔
وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اس سنگین خلاف ورزی پر ملزمان کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد، وائلڈ لائف کی فوری کارروائی، بیمار تیندوا ریسکیو کر لیا
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ نہ صرف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں بلکہ عوام میں بھی شعور اجاگر کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے ۔




