مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کو خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنانےکے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ، ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن اور عوام کے تعاون سے ایک سال کے اندر مظفرآباد کے ہر گھر تک خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مشن جاری رکھا جائے گا ۔
انہوں نے عدالت العالیہ کی جانب سے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کی فیزیبلٹی رپورٹ پر نئے نرخ نامے کو منسوخ کر کے پرانا بحال رکھنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ ڈیری فارمرز انڈسٹری کو بچانے کے لیے ایک اہم قدم ہے ۔
ایسوسی ایشن کے مطابق محکمہ لائیو اسٹاک کے ساتھ مل کر خالص دودھ کی پیداوار میں اضافہ اور معیار میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ محکمہ بھی ڈیری فارمرز کی سرپرستی اور معاونت جاری رکھے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی سی مظفرآباد کے دفتر میں فیزیبلٹی رپورٹ التوا کا شکار: ڈیری فارمرز کا ریاست گیر احتجاج کا انتباہ
انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو قابل احترام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ کوئی ذاتی رنجش نہیں، تاہم عوام اور چند ناتجربہ کار عناصر کے دباؤ کے باعث غیر دانستہ طور پر انڈسٹری کی ترقی کے اقدامات متاثر ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈیری فارمنگ ایک باقاعدہ انڈسٹری ہے، جسے فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف بے روزگاری میں کمی لائے گی بلکہ حکومت پر مالی بوجھ بھی کم کرے گی اور شہریوں کو خالص دودھ فراہم کر کے ملاوٹ شدہ دودھ کے مضر اثرات سے بچا سکتی ہے ۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ میونسپل مجسٹریٹ سردار عمران کی سربراہی میں شہر بھر میں غیر معیاری دودھ کیخلاف آپریشن جاری ہے، اور خالص و ملاوٹ شدہ دودھ کے درمیان واضح فرق قائم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو دودھ کی دکانوں کا مکمل ڈیٹا جمع کر رہی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت کا بڑا ریلیف ، منگلا ڈیم متاثرین کے بجلی کے بل معاف کر دئیے
آخر میں ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ آیا وہ مناسب قیمت پر خالص دودھ خرید کر اپنی صحت کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں یا کم قیمت پر غیر معیاری دودھ استعمال کر کے بعد میں بیماریوں اور مہنگے علاج کا سامنا کرنا چاہتے ہیں ۔




