واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں ۔
صدر ٹرمپ میڈیا سےگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں ، ان کے مقابلے میں اسے مکمل طور پر اس کی “بڑی قیمت” ادا نہیں کرنی پڑی ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی صلاحیت “لامحدود” ہے، تاہم موجودہ صورت حال میں کسی ٹھوس پیش رفت کے امکانات واضح نہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو وہ ایک “دوستانہ ناکہ بندی” کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں ۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران سے متعلق ایک نئی تجویز سے آگاہ کیا گیا ہے، تاہم اس کے اصل نکات اور تفصیلات جلد ان کے سامنے رکھی جائیں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نئی ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار، مقاصد کے حصول تک جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، صدر ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جلد جائزہ لیں گے لیکن انہیں یہ یقین نہیں کہ ایران کی پیش کردہ تجاویز قابلِ قبول ہوں گی ۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو مزید فوجی کارروائیوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ۔
امریکہ اپنی پالیسیوں میں کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔اسی دوران ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے ۔
تاہم اس فیصلے کی وجوہات پر تفصیل نہیں دی گئی۔اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ایران کی موجودہ صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں ۔
انہوں نے ایرانی قیادت کو “کنفیوژڈ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں واضح قیادت اور اتحاد کی کمی ہے، اور مختلف رہنما مختلف مؤقف اپناتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران سے مسلح تنازع کا مرحلہ ختم ہو گیا، جنگ کا امکان پھر بھی برقرار ہے،صدر ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دیا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، اور یہی ان کی پالیسی کی بنیادی سمت ہے ۔




