وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے امیگریشن چیکنگ کے دوران ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بحرین جانے والے 23 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا ہے۔ یہ مسافر ورک ویزا رکھنے کے باوجود سفری تقاضے پورے نہ کرنے پر پرواز سے روک دیے گئے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی مسافروں کے بیانات میں تضاد اور ضروری قانونی دستاویزات کی عدم موجودگی پر عمل میں لائی گئی۔ ابتدائی تفتیش کے دوران مسافروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے بیرون ملک روزگار اپنے رشتہ داروں کے ذریعے حاصل کیا ہے، تاہم جب حکام نے ان سے سخت پوچھ گچھ کی تو ان کے بیانات غلط اور گمراہ کن ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب ورک ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے اہم خبرآگئی
تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران مسافروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بھاری رقوم کے عوض ایجنٹس کے ذریعے یہ ویزے حاصل کیے تھے۔ حیران کن طور پر ان تمام 23 مسافروں کی بکنگ ایک ہی فلائٹ پر مشکوک انداز میں کی گئی تھی۔ امیگریشن حکام نے جب ان سے کام کی نوعیت اور ملازمت کے معاہدے کے بارے میں سوالات کیے تو مسافر کوئی بھی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔
اس کارروائی کی سب سے بڑی وجہ ‘فارن سروس ایگریمنٹ’ کی عدم موجودگی بنی۔ کسی بھی مسافر کے پاس وہ ضروری معاہدہ موجود نہیں تھا جو بیرون ملک روزگار کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایف آئی اے نے تمام مسافروں کو کلیئرنس دینے سے انکار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک جانے والے شہری پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کریں تاکہ انسانی اسمگلنگ اور دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
پاکستان سے خلیجی ممالک بالخصوص بحرین، سعودی عرب اور دبئی جانے والے سادہ لوح شہریوں کو اکثر ایجنٹ مافیا جعلی یا آزاد ویزا کے نام پر لوٹتا ہے۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ایجنٹس مسافروں کو ایئرپورٹ تک تو پہنچا دیتے ہیں لیکن وہاں پہنچ کر ان کے پاس نہ تو ملازمت ہوتی ہے اور نہ ہی رہنے کی کوئی جگہ ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ نے ہنرمند افراد کیلئے دروازے کھول دیے، نئی ویزا اسکیم کا اعلان
اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ اب منظم طریقے سے ’گروپ بکنگ‘ کا سہارا لے رہے ہیں۔ 23 افراد کا ایک ہی وقت میں روانہ ہونا اور سب کا ایک ہی طرح کا جھوٹا بیان دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی بڑا ایجنٹ نیٹ ورک سرگرم ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے امیگریشن قوانین کی سختی اور فارن سروس ایگریمنٹ کا مطالبہ ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اس کے بغیر مسافر دوسرے ملک میں قانونی حقوق سے محروم رہتے ہیں۔




