واشنگٹن(کشمیر ڈیجیٹل)ایران سےمزید جنگ جاری رکھنی ہے یا نہیں ؟امریکی صدر ٹرمپ کا اختیار ختم ہوگیا اور اب جنگ کے حوالے سے امریکی کانگریس فیصلہ کرے گی ۔
امریکی قوانین کے تحت امریکی صدر 60 دن میں جنگ کی ایوان سے اجازت لینے کا پابند ہوگا ۔ایران کیساتھ جنگ کی60 دن کی ڈیڈلائن آج ختم ہوگئی ۔
وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ عارضی جنگ بندی کی مدت نہ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے ۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کو بعد میں لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ۔ 7 اپریل کے بعد سے کوئی فائر نہیں ہوا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم :جوان بچی نالے میں بہہ گئی، ریسکیو آپریشن شروع، علاقے کی فضا سوگوار
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوگئی ، جنگ بندی کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔
وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے ، اس لیے امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نےکہا ہے کہ ایران سے جنگ کب ختم ہوگی؟ اور کب کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوگی؟ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حاجی پیر ویلی : گاؤں بیاڑاں میں لنک روڈ کی تعمیر میں مبینہ کرپشن کا انکشاف
وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ 60 دن کی پابندی والی گھڑی رک چکی ، اب کانگریس سے اجازت کی ضرورت نہیں رہی۔
ادھر امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔
کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔، قرارداد کا مقصد صدر کو ایران جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینا تھا ۔




