مقبوضہ کشمیر پہنچنے والے آسٹریلوی سیاح کا بڑا بیان، بھارتی قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا

مقبوضہ کشمیر کے دورے پر آئے ایک آسٹریلوی سیاح کے سوشل میڈیا بیان نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، جس میں انہوں نے وادی کی ثقافتی شناخت اور بھارتی قبضے کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سیاح کے اس بیان نے نہ صرف مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے بلکہ بھارت کے جبری قبضے کے حقائق کو بھی دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔

ثقافتی مماثلت اور آبادیاتی تناسب پر سوالات:

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سیاح نے اپنے ذاتی سفر کے تجربات اور مشاہدات شیئر کرتے ہوئے کشمیر کے خطے، زبان اور رہن سہن پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سفر کے دوران انہیں احساس ہوا کہ وہ جس خطے میں موجود ہیں، وہاں کی ثقافت مکمل طور پر پاکستان جیسی ہے۔ سیاح نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ “جب یہاں کی 97 فیصد آبادی مسلمان ہے، اکثر لوگ اردو بولتے ہیں اور رہن سہن بھی پاکستانی ہے، تو پھر یہ کشمیر بھارت کا حصہ کیوں ہے، پاکستان کا کیوں نہیں؟”۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف کل ضلع نیلم میں “کشمیر کو حق دو بھارت” ریلی کا انعقاد

تاریخی پس منظر اور جبری قبضے کا تذکرہ:

سیاح نے ویڈیو میں بتایا کہ اس موضوع پر تحقیق کرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ انتہائی متنازع ہے اور یہاں کے لوگ بھارت کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے برطانوی دور کے اختتام اور تقسیمِ ہند کے تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے مقامی ہندو حکمران (Monarch) نے اکثریتی مسلم آبادی کی مرضی کے خلاف بھارت کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے یہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ سیاح کے مطابق انٹرنیٹ پر موجود حقائق بھارت کی پوزیشن کو بہت منفی انداز میں پیش کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی اکثریت بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔

کشمیریوں کے حقوق اور عالمی ضمیر پر دستک:

آسٹریلوی سیاح نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں لوگ اپنی مرضی کے خلاف قید ہیں اور چند افراد کے اقدامات کو پوری آبادی سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ “میرے خیال میں دنیا کے کسی بھی دوسرے گروپ کی طرح یہاں بھی 99 فیصد لوگ اچھے ہیں، لیکن یہ بھارت کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف انہیں اپنے ملک کا حصہ بنائے”۔ آخر میں انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھارتی نقطہ نظر سے بھی یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس اس خطے پر اپنا حق کیوں جتاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیر پر قابض ہے اور مقبوضہ وادی میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے مسلسل سیاسی اور انتظامی کوششیں کر رہا ہے۔ اس ویڈیو نے جہاں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا سوال اٹھایا ہے، وہیں بھارتی مظالم اور جبری قبضے کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔

A tourist from Australia, upon arriving in occupied #Kashmir, remarked that the stunning region is under illegal occupation & rightfully belongs to the Kashmiri people & #Pakistan, once again bringing global attention to the Kashmir issue. pic.twitter.com/HsbBpMBkEV

Scroll to Top