عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا،ماہرین معاشیات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

امریکا اور ایران کی حالیہ کشیدہ صورتحال کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس کروڈ 7.5 ڈالر اضافے کے ساتھ 107.46 ڈالر فی بیرل ہوگیا جبکہ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل8.17ڈالر بڑھ کر 119.43ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم ذخائر کی صورتحال تشویشناک، پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق ابوظہبی عالمی بینچ مارک مربان کروڈ 2.61ڈالر اضافے سے 109.3ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت 117 ڈالرز فی بیرل کی سطح عبور کرگئی تھی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت بڑھ کر 105 فی بیرل ہوگئی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تیل صرف 67.02 ڈالرز پر دستیاب تھا، جو اب تقریباً 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکا ہے۔

جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت 73 ڈالرز فی بیرل تھی، جس میں اب تک 37 ڈالرز سے زائد کا ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔

ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کی نوید سنادی

خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہیں، ان کے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوگا۔