ایران نے امریکی ناکہ بندی کے خلاف سخت کارروائی سے خبردار کردیا جس سے کشیدگی دوبارہ پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کی ناکا بندی کو قزاقی قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ امریکی ناکہ بندی کے خلاف وہ کارروائی کریں گے جو یاد رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے فون پر مذاکرات جاری ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا دعویٰ کردیا
ایرانی حکام نے کہاکہ امریکی رویہ بین الاقوامی تجارت میں مداخلت اور املاک پر غیر قانونی قبضہ ہے، ایران کو جواب دینے کا پورا حق ہے۔
ادھر ایرانی فوج کاکہنا ہےکہ ایران کی فوج اپنی تیاری کررہی ہے، اہداف کی فہرستیں اپ ڈیٹ ہورہی ہیں، امریکا سے جنگ بندی کے باوجود جنگ کو ختم نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا انٹرنیٹ بند ہونے والا ہے؟ آبنائے ہرمز میں ’سب میرین کیبل‘ سے متعلق تشویشناک خبر
یاد رہے کہ امریکی صدر نے ایران کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے معاہدہ ہونے تک ناکا بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف ’مختصر اور طاقتور‘ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ مذاکرات میں جاری تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر امریکی شکنجہ مزید سخت کرنیکی تیاریاں،35اداروں وشخصیات پر پابندیاں عائد
رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے بعد امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا۔
امریکااور ایران کی جانب سےممکنہ کسی بھی کارروائی پر صورتحال پھر کشیدہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور ایک بار پھر جنگ شروع ہو جائیگی۔




