جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی طلباء کا آر ایس ایس کے کیخلاف احتجاج، پولیس تعینات

نئی دہلی(کشمیر ڈیجیٹل) آر ایس ایس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میںیووا کمبھ (یوتھ کنکلیو) کا انعقاد کیاگیا جس کیخلاف کئی طلبہ تنظیمیں سراپا احتجاج ہوگئیں۔

مذکورہ یوتھ کنکلیو کیخلاف طلباء کا جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج ۔ این ایس یو آئی سے وابستہ طلباءنے اس تقریب کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔

گروپوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس کا ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں ہے اور اس کے بجائے اس نے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں کے ساتھ تعاون کیا ہے

مزید یہ بھی پڑھیں:شوکت نواز میر ، انجم زمان اعوان، راجہ صعیب جاوید کے وارنٹ گرفتاری جاری!

طلباء کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس ایک شدت پسند تنظیم ہے جس کے100 سالہ قومی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس کو کھلی دعوت دینے پر جامعہ انتظامیہ پر بھی تنقید کی جبکہ مبینہ طور پر ترقی پسند گروپوں کو تعلیم، جمہوریت اور آئینی اقدار پر پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔

مظاہرین نے مزید دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے جو کہ تفرقہ انگیز ہے اور اس لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ یا کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے دہلی پولیس کے اہلکاروں کو جامعہ میں تعینات کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز یونیورسٹی کے احاطے کے اندر اور باہر دونوں جگہ چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے باہر دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں کی ایک بڑی نفری کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ این ایس یو آئی کے طلباء یونیورسٹی کیمپس کے اندر بھی سراپا احتجاج ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں آر ایس ایس کے پروگرام کی مخالفت (ETV Bharat)طلبہ تنظیم اے آئی ایس اے نے جامعہ میں دیگر ترقی پسند گروپوں کے ساتھ مل کر آر ایس ایس کےیووا کمبھ پروگرام کے خلاف احتجاج کیا۔

اے آئی ایس اے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اس بینر تلے مختلف یونیورسٹیوں میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کرتی ہے، جو قوم کی تعمیر اور ترقی کے سو سال کی میراث کا دعویٰ کرتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سماہنی: الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ووٹر فہرستیں پبلک، ووٹرز کی تعداد میں بڑا اضافہ

اے آئی ایس اے نے دلیل دی کہ آر ایس ایس – جس نے آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور یہاں تک کہ انگریزوں کے ساتھ کھل کر تعاون کیا – آج صرف اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کیلئے قوم پرستی کا کارڈکھیل رہی ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے شہیدوں اور آزادی کے جنگجوؤں کی وراثت – جنہوں نے ایک جمہوری، سیکولر ہندوستان کے لیے جدوجہد کی – آج آر ایس ایس کے خلاف متحد ہے، چاہے وہ جامعہ میں ہو یا کہیں اور۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم ذخائر کی صورتحال تشویشناک، پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ

اے آئی ایس اے نے جامعہ انتظامیہ کی مذمت کی کہ وہ کھلے عام آر ایس ایس کو ایک تقریب کے انعقاد کے لیے مدعو کر رہی ہے۔ طلبہ نے کہا کہ انتظامیہ عام طور پر ترقی پسند تنظیموں یا گروپوں کو تعلیم اور جمہوریت پر مرکوز پروگراموں کی میزبانی کرنے سے روکتی ہے۔

تنظیم نے زور دے کر کہا کہ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا آر ایس ایس اور اس کا فرقہ وارانہ ایجنڈے کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یا ہندوستان کی کسی دوسری یونیورسٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے اندر اے آئی ایس اے اور این ایس یو آئی کا مسلسل احتجاج جاری ہے، دہلی پولیس اور آر اے ایف کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد باہر تعینات ہے، جہاں اس وقت صورتحال پرامن دکھائی دے رہی ہے۔

حالانکہ دہلی پولیس چوکس ہے، لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 1 پر نگرانی رکھی جارہی ہے۔ دریں اثنا، آر ایس ایس کی تقریب یووا کمبھ شام تک جاری رہے گی۔ نتیجتاً جامعہ انتظامیہ کیمپس کے اندر الرٹ ہے، جب کہ دہلی پولیس باہر چوکس ہے۔

Scroll to Top