پولیس اہلکار کا اپنے بچوں پر تشدد،اہلیہ کا آئی جی آزادکشمیر سے کارروائی کا مطالبہ

مظفرآباد(نامہ نگار)مظفرآباد کے نواحی علاقے یونین کونسل گوجرہ کے گاؤں کٹلی سے تعلق رکھنے والی پانچ بچوں کی ماں روبینہ بی بی اپنے اور بچوں پر مبینہ گھریلو تشدد اور سنگین الزامات کے خلاف انصاف کے حصول کیلئے میڈیا کے سامنے سراپا التجاء بن گئی۔

متاثرہ خاتون کے مطابق وہ گزشتہ پندرہ روز سے اپنے بچوں سمیت دربدر ہیں اور اس وقت اپنے بھائی کے گھر پناہ لینے پر مجبور ہیں جہاں شدید غربت کے باوجود انہیں عارضی سہارا ملا ہوا ہے۔

خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خاوند محمد شاہ نوازجو پولیس ملازم ہیں گزشتہ ایک سال سے انہیں اور ان کے بچوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا صوبہ کنڑ میں پاکستانی طیاروں کی کارروائی کا دعویٰ من گھڑت نکلا

ان کے مطابق شوہر نہ صرف ان پر کردار کشی کے الزامات لگاتا ہے بلکہ آئے روز مارپیٹ بھی کرتا ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ شوہر مبینہ طور پر نشے کا عادی ہے اور نشے کی حالت میں گھر آ کر مجھ سمیت نوجوان بچیوں خاص کر بڑی بیٹی کو کے سال دوئم کی طالبہ ہے پر تشدد کرتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شاہ غلام قادرکی حکومتی تعلیمی پیکیج کیخلاف الیکشن کمیشن میں درخواست جمع

متاثرہ خاتون روبینہ بی بی کے مطابق اس معاملے پر متعدد بار برادری اور جرگہ بھی ہوا، تاہم کوئی بہتری نہ آ سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ پندرہ روز قبل مبینہ تشدد اپنی انتہا کو پہنچا جس کے بعد وہ اپنے بچوں سمیت گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔

روبینہ بی بی نے حکام بالا، خصوصاً انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہی محکمے سے تعلق رکھنے والے اہلکار کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں اور انہیں اور ان کے بچوں کو تحفظ فراہم کریں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی وزیرخارجہ کا دورہ ماسکو،امریکہ کیخلاف مزاحمت جاری رکھنے کا عزم

انہوں نے الزام لگایا کہ ان کا شوہر پولیس کی حیثیت کا سہارا لے کر انہیں دھمکاتا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے۔

دوسری جانب واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی مظفرآباد نے فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

تھانہ صدر پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست وصول کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ گھریلو تشدد کے کیسز میں متاثرین کو بروقت تحفظ اور انصاف کی فراہمی کس حد تک یقینی بنائی جا رہی ہے، خصوصاً جب ملزم خود قانون نافذ کرنے والے ادارے سے وابستہ ہو۔

Scroll to Top