افغان طالبان کا صوبہ کنڑ میں پاکستانی طیاروں کی کارروائی کا دعویٰ من گھڑت نکلا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر گزشتہ کچھ گھنٹوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے افغانستان کے صوبے کنڑ میں فضائی حملے کئے جو حقائق کے منافی ہیں۔

معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جب بھارتی ایجنٹوں کے ان دعووںکا فیکٹ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شاہ غلام قادرکی حکومتی تعلیمی پیکیج کیخلاف الیکشن کمیشن میں درخواست جمع

فیکٹ چیک کے مطابق یہ منظم ڈس انفارمیشن (غلط معلومات) دو مخصوص افغان سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے پھیلائی گئی جس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا اور طالبان رجیم کے حق میں پروپیگنڈا کرنا ہے۔

زرائع اس بات کی تصدیق کے رہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے افغان صوبہ کنڑ میں کسی قسم کی کوئی فضائی کارروائی یا اسٹرائیک نہیں کی گئی۔

یہ تمام دعوے طالبان کے پروپیگنڈا سیل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان ہینڈلز کی جانب سے شیئر کی جانے والی معلومات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ محض عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

افغان میڈیا اور بھارتی پروپیگنڈوں کی حمایت یافتہ حکام کی طرف سے کنڑ میں حملوں کے بارے میں مسلسل پروپیگنڈہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے پاس اپنے شہریوں کو خدمت، فلاح و بہبود اور حکمرانی کے حوالے سے کچھ بھی نہیں

مزید یہ بھی پڑھیں:مطالبات کی عدم منظوری ،ہیلتھ ملازمین کا یکم مئی سے تمام دفاتر بند کرنے کا اعلان

افغان حکومت صرف غلط معلومات اور نفرت پر انحصار کرتی ہے۔ اپنے ہندوستانی پروپیگنڈہ آقاؤں سے صرف ایک چیز سیکھی ہے وہ جھوٹ اور جھوٹے فلیگ آپریشنزجو کہ انتہائی گھٹیااور بے ہودہ الزامات ہیں۔

تاہم یہ واضح رہے کہ آپریشن غضب للحق کے ایک حصے کے طور پر، پاکستان جب بھی اور جہاں بھی افغان دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرے گا۔یہ سابق کارروائیوں کے مطابق اعلان شدہ، مکمل ملکیت اور دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے قطعی ثبوت کے ساتھ حمایت یافتہ ہوگا۔

Scroll to Top