سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر گزشتہ کچھ گھنٹوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے افغانستان کے صوبے کنڑ میں فضائی حملے کئے جو حقائق کے منافی ہیں۔
معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جب بھارتی ایجنٹوں کے ان دعووںکا فیکٹ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شاہ غلام قادرکی حکومتی تعلیمی پیکیج کیخلاف الیکشن کمیشن میں درخواست جمع
فیکٹ چیک کے مطابق یہ منظم ڈس انفارمیشن (غلط معلومات) دو مخصوص افغان سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے پھیلائی گئی جس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا اور طالبان رجیم کے حق میں پروپیگنڈا کرنا ہے۔
زرائع اس بات کی تصدیق کے رہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے افغان صوبہ کنڑ میں کسی قسم کی کوئی فضائی کارروائی یا اسٹرائیک نہیں کی گئی۔
یہ تمام دعوے طالبان کے پروپیگنڈا سیل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
🔎 𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ The continuous propaganda around phantom strikes in Kunar by Afghan media and officials backed by the Indian propagandists indicate that;
(1) Afghan Taliban Regime, having… pic.twitter.com/E6CmjdM88J— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) April 27, 2026
ان ہینڈلز کی جانب سے شیئر کی جانے والی معلومات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ محض عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
افغان میڈیا اور بھارتی پروپیگنڈوں کی حمایت یافتہ حکام کی طرف سے کنڑ میں حملوں کے بارے میں مسلسل پروپیگنڈہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے پاس اپنے شہریوں کو خدمت، فلاح و بہبود اور حکمرانی کے حوالے سے کچھ بھی نہیں
مزید یہ بھی پڑھیں:مطالبات کی عدم منظوری ،ہیلتھ ملازمین کا یکم مئی سے تمام دفاتر بند کرنے کا اعلان
افغان حکومت صرف غلط معلومات اور نفرت پر انحصار کرتی ہے۔ اپنے ہندوستانی پروپیگنڈہ آقاؤں سے صرف ایک چیز سیکھی ہے وہ جھوٹ اور جھوٹے فلیگ آپریشنزجو کہ انتہائی گھٹیااور بے ہودہ الزامات ہیں۔
تاہم یہ واضح رہے کہ آپریشن غضب للحق کے ایک حصے کے طور پر، پاکستان جب بھی اور جہاں بھی افغان دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرے گا۔یہ سابق کارروائیوں کے مطابق اعلان شدہ، مکمل ملکیت اور دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے قطعی ثبوت کے ساتھ حمایت یافتہ ہوگا۔




