آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے لوکل گورنمنٹ فنڈز کیس میں اہم سماعت کے بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی (Stay Order) جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ میں دائر پی ایل اے (PLA) پر سماعت کے دوران معزز عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر فوری طور پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی جائے گی۔ اس کیس میں بلدیاتی نمائندگان کی جانب سے بیرسٹر ہمایوں جبکہ سرکار کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل محمد ندیم خان نے پیروی کی۔
یہ قانونی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بلدیاتی نمائندگان نے ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی، جس کا مقصد لوکل گورنمنٹ کے تقریباً 5 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کو ممبرانِ اسمبلی کے ذریعے خرچ کیے جانے سے روکنا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ یہ فنڈز مقامی حکومتوں کا آئینی حق ہیں اور انہیں ممبرانِ اسمبلی کے بجائے بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہی استعمال ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے خلاف بلدیاتی نمائندگان کی رٹ خارج
قبل ازیں، جسٹس سید شاہد بہار اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے اس کیس پر طویل سماعت کی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کیس ریمانڈ کیے جانے کے بعد، ہائی کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر 23 اپریل کو محفوظ فیصلہ سنایا تھا جس میں بلدیاتی نمائندگان کی رٹ پٹیشن خارج کر دی گئی تھی۔ عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے سے ممبرانِ اسمبلی کے ذریعے فنڈز کے استعمال کی قانونی راہ ہموار ہو گئی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بلدیاتی نمائندگان نے سپریم کورٹ سے فوری حکمِ امتناعی کی استدعا کی تھی تاکہ فنڈز کی تقسیم کو روکا جا سکے، تاہم سپریم کورٹ نے آج یہ استدعا مسترد کر کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد لوکل گورنمنٹ فنڈز کے استعمال سے متعلق قانونی پوزیشن اب مکمل طور پر واضح ہو گئی ہے اور اسے مستقبل کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




