آزاد جموں کشمیر میں محکمہ صحت کے 15 ہزار سے زائد ملازمین اپنے دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن کے بینر تلے ہونے والے اس احتجاج میں ملازمین نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یکم جولائی تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پوری ریاست کے تمام مراکزِ صحت اور ہسپتالوں کو مکمل طور پر تالے لگا دیے جائیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
وادی نیلم میں دھرنا اور سروسز کی معطلی:
وادی نیلم کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اٹھمقام میں ملازمین نے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیوں کے باوجود تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور دیگر پیرامیڈیکل اسٹاف نے کشمیر ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر مطالبات حل نہ ہوئے تو یکم مئی سے وادی نیلم کے تمام بنیادی مراکزِ صحت (BHUs)، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھمقام اور ٹی ایچ کیو کیل میں ایمرجنسی سمیت تمام سروسز معطل کر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ڈڈیال کے ہیلتھ ورکرز کا حکومت کیخلاف احتجاج، سڑکوں پر نکل آئے
ملازمین کے بنیادی مطالبات:
احتجاجی ملازمین نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست رکھی ہے جس میں پیشہ ورانہ خطرات کے پیشِ نظر ریسک اور ہیلتھ الاؤنس کی فوری فراہمی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ چارٹر آف ڈیمانڈز میں ملازمین کے سروس اسٹرکچر کی اصلاح، بروقت ترقیوں کے عمل کو یقینی بنانے اور گریڈ ایڈجسٹمنٹ سمیت کیریئر پراگریشن کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ مظاہرین کا ایک اہم مطالبہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے درمیان مراعات و الاؤنسز میں پائے جانے والے فرق کو ختم کرنا ہے تاکہ نظامِ صحت میں مساوات قائم ہو سکے۔ اس کے علاوہ، کئی برسوں سے فرائض سرانجام دینے والے کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کی مستقلی اور دیگر سروس بینیفٹس میں اضافے کو بھی مطالبات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ملازمین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے الاؤنسز کی منظوری اور دیگر مراعات کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، ان کا احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔
ملازمین کی جانب سے کام کی بندش اور احتجاج کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی نیلم جیسے دور افتادہ علاقوں میں ہسپتالوں کی تالا بندی سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ وہ اب محض وعدوں پر نہیں ٹلیں گے بلکہ نوٹیفکیشن کے اجرا تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔




