لندن میراتھون ،بڑی تعداد میں پاکستانی رنرز کی شرکت، شاندار کارکردگی دکھا دی

لندن میراتھون کے 46 ویں ایڈیشن میں پاکستانی رنرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی کارکردگی، حکمت عملی اور مستقل مزاجی سے ایک مضبوط تاثر بھی چھوڑا۔

پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد رنرز نے لندن میراتھون میں شرکت کی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

یہ بھی پڑھیں:استنبول میراتھون میں پاکستانی ایتھلیٹس کی شاندار کارکردگی، پوزیشنز سمیٹ لیں

برطانیہ میں مقیم عبداللہ محمد اطہر نے 2 گھنٹے 39 منٹ اور 53 سیکنڈ میں اس سال لندن میں سب سے تیز پاکستانی رنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا، ان کی کارکردگی کی اصل خاصیت ان کی شاندار ریس حکمت عملی رہی۔

انہوں نے ریس کے ابتدائی مراحل میں غیرمعمولی تسلسل دکھایا، پہلے 10 کلومیٹر 39 منٹ 7 سیکنڈ میں مکمل کئے اور ہاف میراتھون ایک گھنٹے 18 منٹ اور 23 سیکنڈ میں عبور کیا، ان کا پیس زیادہ تر ریس کے دوران 3:41 سے 3:49 فی کلو میٹر کے درمیان رہا۔

آخری مراحل میں جہاں عام طور پر رنرز کی رفتار میں نمایاں کمی آتی ہے، اطہر نے نہایت دانشمندی کے ساتھ رفتار کو کنٹرول کیا اور تقریباً 4:00 فی کلومیٹر کے ساتھ مضبوط اختتام کیا۔

عبداللہ محمد اطہر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دوڑنے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے لیکن میرے لیے یہ زندگی میں نظم و ضبط اور ذہنی سکون لاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال پہلے میرا 10 کلومیٹر کا بہترین وقت تقریباً 37 منٹ تھا اور آج میں نے اسی رفتار سے پوری میراتھون مکمل کی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے امین مکاتی 2 گھنٹے 45 منٹ اور 2 سیکنڈ میں دوسرے تیز ترین پاستانی رہے ، ان کی کارکردگی ایک متوازن اور کنٹرولڈ ریس کی بہترین مثال رہی۔

انہوں نے آغاز قدرے محتاط انداز میں کیا، 5 کلو میٹر 19 منٹ 8 سیکنڈ میں مکمل کیے اور ہاف میراتھون ایک گھنٹہ 21 منٹ 43 سیکنڈ میں عبور کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سڈنی میراتھون میں پاکستانی رنرز کی شاندار کارکردگی، کئی اعزازات اپنے نام

ان کا پیس زیادہ تر 3:50 سے 3:59 فی کلو میٹر کے درمیان رہا، اہم بات یہ رہی کہ وہ ریس کے آخری حصے میں بھی اپنی رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

امین مکاتی کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ میں نے ریس کا آغاز کنٹرولڈ رکھا اور اختتام مضبوط انداز میں کیا، میں کہیں بھی کریش نہیں ہوا، یہی سب سے بڑی کامیابی تھی۔

خواتین میں دبئی میں مقیم سارہ طہور لودھی نے 3 گھنٹے 25 منٹ 2 سیکنڈ میں سب سے تیز پاکستانی خاتون رنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

انہوں نے ریس کے ابتدائی حصے میں شاندار کارکردگی دکھائی، 10 کلومیٹر 46 منٹ 20 سیکنڈ اور ہاف میراتھون ایک گھنٹہ 38 منٹ اور 7 سیکنڈ میں مکمل کیا تاہم 25 کلومیٹر کے بعد رفتار میں کمی آئی، جہاں ان کا پیس 5:00 سے 5:20 فی کلومیٹر تک چلا گیا، اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مضبوطی سے ریس مکمل کی۔

سارہ کا کہنا تھا کہ انہیں ایک بار پھر لندن میراتھون میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے۔

دیگر نمایاں کارکردگیوں میں کراچی کے ریحان آدمجی (3:11:01) کے ساتھ تیسرے تیز ترین پاکستانی رہے، جبکہ (3:32:32) کے ساتھ عدنان گاندھی نے لندن میں اپنی گزشتہ کارکردگی کو بہتر کیا۔

ساحل کمار نے چار گھنٹے سے کم وقت میں ریس مکمل کی، جبکہ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ذیشان رب نے (4:01:43) مین اپنی 55 ویں میراتھون مکمل کی۔

ثمین ناصر (4:04:35)، محمد حسن (4:07:25) اور عادل علی نے (4:07:51) کے ساتھ مضبوط کارکردگی دکھائی جبکہ خواتین میں حرا دیوان (4:12:53) اور ہادیہ کشور (4:17:37) کےساتھ نمایاں رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:شکاگو میراتھون 2025: پاکستانی رنرز کی شاندار کارکردگی

اس ایونٹ کی ایک اہم بات پاکستانی رنرز کی عالمی نمائندگی تھی، جن میں برطانیہ، امریکا، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں مقیم پاکستانی شامل تھے۔

یہ کارکردگیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستانی کمیونٹی میں کھیلوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

Scroll to Top