حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف کی مشاورت سے آئندہ پانچ سالوں کے لیے نئی آٹو پالیسی کا فریم ورک تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک کے آٹو موٹو سیکٹر میں طویل مدتی اصلاحات لانا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ سال 2030 تک ٹیرف کو کم کر کے 5.99 فیصد تک لایا جائے تاکہ عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ تاہم، ماہرینِ معیشت اور آٹو انڈسٹری سے وابستہ حلقوں نے اس پالیسی کے طریقہ کار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقامی صنعت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
مقامی صنعت کو درپیش خطرات اور ڈی انڈسٹریلائزیشن کا خدشہ:
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سستی درآمدی گاڑیوں کے لیے ملک کے دروازے بغیر کسی جامع حفاظتی حکمتِ عملی کے کھول دیے گئے، تو اس سے مقامی آٹو انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھاری سرمایہ کاری اور ہزاروں خاندانوں کو روزگار فراہم کرنے والی یہ صنعت “ڈی انڈسٹریلائزیشن” کا شکار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی مینوفیکچررز کو درآمدی گاڑیوں کے مقابلے میں غیر محفوظ چھوڑنا ملکی معیشت کے لیے طویل مدتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ عام آدمی کے لیے موجودہ حالات میں اب بھی کوئی خاطر خواہ ریلیف نظر نہیں آ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ ثابت ہوچکا، پانی روکا تو خوفناک جواب ملے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی بھارت کو وارننگ
چھوٹی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا اضافی بوجھ:
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی محمد شہزاد نے اس پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے ایک طرف پانچ سالہ منصوبے کی بات کی ہے تو دوسری طرف درآمدی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 40 فیصد کا بھاری اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ماضی میں چھوٹی گاڑیاں، جو متوسط طبقے کی ضرورت ہیں، ریگولیٹری ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوا کرتی تھیں لیکن اب ان پر بھی 40 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔ بڑی گاڑیوں پر یہ ڈیوٹی پہلے ہی 90 فیصد سے بڑھ کر 130 فیصد ہو چکی ہے، جس سے گاڑی خریدنا اب ہر طبقے کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
گفٹ اسکیم پر پابندیاں اور کمرشل امپورٹ کی شرائط:
حاجی محمد شہزاد کے مطابق پی آر یا گفٹ اسکیم کے تحت بیرون ملک سے آنے والی گاڑیوں پر بھی پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ اب اگر کوئی گاڑی اس اسکیم کے تحت آتی ہے تو وہ ایک سال تک اسی شخص کے نام پر رہے گی جس نے اسے بھیجا ہے، جس سے اس کی فوری فروخت اور منتقلی میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کمرشل امپورٹ کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایسی کڑی شرائط جوڑ دی گئی ہیں جن پر عمل کرنا تقریباً ناممکن ہے، جس کا براہِ راست فائدہ اب مقامی اسمبلنگ کمپنیوں کو پہنچے گا۔
لوکلائزیشن کا فقدان اور آٹو پارٹس انڈسٹری کا جمود:
معروف آٹو ایکسپرٹ مشہود علی خان نے اس حوالے سے ایک اہم نقطہ اٹھایا ہے کہ پاکستان میں آٹو پارٹس کی مقامی تیاری یعنی “لوکلائزیشن” کی کمی نے صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک پرزوں کی مقامی سطح پر تیاری یقینی نہیں بنائی جائے گی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل جمود کا شکار رہے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو درآمدات پر انحصار کرنے والے ماڈل کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور تمام نئے آنے والے اداروں (OEMs) کو پابند کرنا چاہیے کہ وہ دو سال کے اندر گاڑیوں کے کم از کم 30 فیصد پرزے پاکستان میں تیار کریں۔
مزید پڑھیں: سوزوکی 150موٹرسائیکل صرف 9550 روپے ماہانہ میں ،کمپنی نے بڑی آفر لگا دی
مراعات کو ٹیکنالوجی کی منتقلی سے مشروط کرنے کا مطالبہ:
ماہرین نے زور دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی تمام مراعات کو حقیقی معنوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار سے مشروط کیا جائے۔ پالیسی میں موجود ابہام کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ تمام کمپنیوں کے لیے یکساں قوانین ہوں اور مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ پیدا ہو۔ ماہرین کے مطابق اگر پالیسی کو حقیقت پسندانہ بنایا گیا اور مقامی پرزہ جات کی صنعت کو مضبوط کیا گیا، تبھی کائنات کے آغاز اور اس کی ساخت کی طرح ملکی آٹو سیکٹر کے مستقبل کو بھی درست سمت دی جا سکے گی، ورنہ عام صارف مہنگائی کے اس بوجھ تلے دبا رہے گا۔




