اسلام آباد :آزاد کشمیر حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے خلاف دیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ خصوصاً “راستہ روکنے” اور “مسلط وزیراعظم” جیسے ریمارکس کو سیاسی شائستگی اور آئینی اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کے پولیٹیکل اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی نے اپنے ایک سخت ردعمل میں کہا کہ سہیل آفریدی کا بیان نہ صرف آئینی اقدار کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ آزاد کشمیر کے عوام کے واضح جمہوری مینڈیٹ پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو “مسلط وزیراعظم” کہنا اور ان پر “راستہ روکنے” کا بے بنیاد الزام لگانا دراصل لاکھوں کشمیریوں کی رائے، وقار اور سیاسی شعور کی سنگین توہین ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام فالس فلیگ ثابت ہوچکا، پانی روکا تو خوفناک جواب ملے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی بھارت کو وارننگ
سید عزادار حسین کاظمی نے مزید کہا کہ فیصل ممتاز راٹھور ایک آئینی اور عوامی ووٹ سے منتخب وزیراعظم ہیں، جنہیں قانون ساز اسمبلی نے اکثریت رائے سے منتخب کیا ہے۔ ان کے بارے میں اس نوعیت کے الفاظ استعمال کرنا سیاسی اخلاقیات کے منافی اور جمہوری نظام کی کھلی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ سیاسی پختگی کے بجائے انتہا پسندی اور عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے، جو ریاستی اداروں کے احترام کو مجروح کرنے اور پاکستان و آزاد کشمیر کے درمیان جمہوری ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
پولیٹیکل اسسٹنٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کے سحر میں اس قدر مبتلا ہیں کہ انہیں اپنے صوبے کے مسائل نظر ہی نہیں آتے۔ خیبر پختونخوا میں بیڈ گورننس عروج پر ہے، عوام صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے روزانہ نئے سیاسی ڈرامے رچانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وزیراعلیٰ کے پی دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنے صوبے کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دیں کیونکہ عوام اب کھوکھلے نعروں اور الزام تراشی کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلقے میں افسوسناک واقعہ،سمگلرز ایڈیشنل ایس ایچ او سے اسلحہ اور جیکٹ چھین کر فرار
سیاسی معاون نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں صرف پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں آزاد کشمیر کے سیاسی نظام میں استحکام آیا ہے اور انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج عوام کے سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، جس سے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ آخر میں حکومت آزاد کشمیر نے مطالبہ کیا کہ سہیل آفریدی اپنے غیر ذمہ دارانہ ریمارکس پر فوری وضاحت اور معذرت کریں اور آئندہ ایسی گفتگو سے اجتناب کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ریاست کے وقار کے خلاف غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔




