وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کی نوید سنادی

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں رعایت نہ ملی تو پیٹرولیم لیوی میں 50 سے 55 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کو اقتدار سنبھالتے وقت انتہائی سنگین معاشی بحران کا سامنا تھا، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے اور توانائی کے شعبے میں کسی منصوبہ بندی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس کے باوجود حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو رکنے نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مل کر 100 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق ایک اہم حکمت عملی کے تحت ڈیزل پر سے لیوی ختم کر کے اس کا بوجھ پیٹرول پر منتقل کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈیزل کی قیمتیں عالمی سطح پر کم ترین شمار ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرول پر لیوی میں بھی 26 روپے ، 77 پیسے اضافے کا اعلان

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ ماضی میں حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں 80 روپے تک کی بڑی کمی بھی کی، لیکن اس مثبت اقدام کو سیاسی رنگ دے کر متنازع بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرنا ملک کی مجبوری ہے، کیونکہ اس کے بغیر معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم، اسحاق ڈار اور عسکری قیادت ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت ٹیکسوں اور لیویز میں اضافے جیسی کئی مالیاتی اصلاحات کر رہی ہے تاکہ حکومتی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: فائرنگ کے واقعے پر صدر ٹرمپ کا ردعمل اور ایران جنگ کے حوالے سے اہم بیان

Scroll to Top