واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کسی نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت کا خواہشمند ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ تہران امریکی مطالبات کے مطابق پیش کش دینا چاہتا ہے اور اس وقت امریکہ ایران کے ان بااثر لوگوں سے مذاکرات کر رہا ہے جو فیصلے کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران کس قسم کی پیش کش سامنے لاتا ہے اور کیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی پائیدار معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کے تحت ایران پر معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں ایرانی تجارت کو سہارا دینے والے تمام نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ اسی سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ نے چین میں قائم ایک آئل ریفائنری، 40 شپنگ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جو ایران کے ساتھ تیل کی منتقلی میں ملوث پائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قوم انقلابی سوچ کے تحت متحد ہے، ایرانی قیادت کا ٹرمپ کے دعویٰ پر ردعمل
دریں اثنا خطے میں عسکری تناؤ بھی عروج پر ہے جہاں امریکی سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی پرچم والے ایک اور بحری جہاز کو روک دیا ہے جو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ’میکسمم پریشر‘ پالیسی کو ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کے ذریعے ایک نیا رخ دیا گیا ہے۔ فروری 2026 سے جاری اس کشیدگی کا مقصد ایران کی معیشت کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ امریکی شرائط پر معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ برقیات مظفرآباد میں آسامیوں کے لیے انٹرویو شیڈول جاری
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی ‘مذاکرات اور پابندیاں’ والی بیک وقت حکمتِ عملی تہران کو ایک مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کر رہی ہے۔




