مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم آزادکشمیر مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ الیکشن سے 120دن قبل کوئی پیکیج یاترقیاتی منصوبے نہیں دیا جاسکتا، تعلیمی پیکیج کیخلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کرینگے جبکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف مشاورت سے اپیل کا فیصلہ کرینگے۔
مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد کے میٹ دی پریس پروگرام میں جمعہ کے روز اظہار خیال کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ مہاجرین مقیم پاکستان ہمارے وجود کا حصہ ہیں انہیں کوئی الگ نہیں کر سکتا، حکومتی سطح پر قبل از انتخابات دھاندلی شروع ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، گریڈ 1 تا 15 کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم
مسلم لیگ (ن) کسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی، اکیلے انتخاب جیت پر حکومت بنائیں گے، پارلیمانی بورڈ میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت آئندہ چند روز میں جماعتی اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دے گا، مسلم لیگ ن کے پاس ہر حلقہ انتخاب میں ایک سے زیادہ اُمیدوار ہیں، یہاں تک کہ ایک حلقہ سے 26اُمیدواروں نے درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم کانفرنس نے غیر ریاستی شخص کو ووٹ کا حق دینے کی روایت قائم کی، 13ویں ترمیم کے خلاف جو لوگ عدالتوں میں گئے ہیں انہیں خود پتہ نہیں، ترمیم کے لئے حکومت پاکستان سے اجازت لینے اس لیے گئے کہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار دکھا سکیں کہ حکومت پاکستان بھی آزادکشمیرکے عوام کو بااختیار اور باوسائل دیکھنے کیلئے رضامند ہے۔
فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ذاتی حیثیت میں تیرہویں ترمیم کیخلاف دائر ہونے والی رٹ پٹیشن میں فریق بننے کیلئے درخواست جمع کروا دی ہے، عالمی حالات کی وجہ سے حکومت پاکستان پر بھی مالیاتی دباؤ ہے، کچھ کہہ نہیں سکتے کہ آزادکشمیر کی مالی ضروریات بشمول ترقیاتی فنڈز پوری ہو سکیں گی یا نہیں آزادکشمیر کی آئندہ حکومت تھرو فاروڈ میں اضافے کے دباؤ کا شکار رہے گی۔
اس وقت صرف پونچھ ڈویژن میں 13 ارب روپے ٹھیکیداروں کے واجبات کی صورت میں ادائیگی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے عزائم انتہائی خطرناک ہیں، اس وقت بھارت میں مسلم دشمنی عروج پر ہے، دنیا کی توجہ ایران امریکہ جنگ پر مرکوز ہے، ایسے میں بی جے پی کی ہندو توا سرکار اپنے سیاسی مقاصد کیلئے سرگرم ہے، آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات جولائی کے وسط میں متوقع ہیں۔
مسلم لیگ (ن) سمیت پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنی سرگرمیاں شروع کر چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد ہو گااور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ابھی تک زیر غور آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سالہ مخلوط دور حکومت میں آزادکشمیر کے اندر مجموعی طور پر سیاسی جماعتیں کمزور ہوئی ہیں لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو معمول سے زیادہ محنت کی ضرورت ہے، مسلم لیگ (ن) کے پاس ہر حلقہ انتخاب سے ایک سے زیادہ اُمیدوار موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر الیکشن شیڈول کے اجراء سے پہلے جلسوں سے خطاب کریں گے، دیگر قائدین بھی مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم میں شریک ہوں گے، الیکشن شیڈول کے اجراء کے بعد پاکستان سے کوئی وفاقی وزیر یا شخصیت آزادکشمیرمیں انتخابی مہم کا حصہ بنے گی تو یہ مداخلت تصور ہو گی۔
موجودہ صورتحال میں نوکریاں اور ترقیاتی فنڈز کسی بھی جماعت کے لئے فائدہ مند نہیں ہیں، ملازمین کے کوٹہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ حکم امتناعی قائم ہے۔
لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون سازی کا اختیار حاصل ہونے کا واضح ثبوت ہے، چوں کہ وقت کم ہے اس لیے بھرتیاں، تعلیمی پیکیج پر عملدرآمد ممکن نہیں، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن تمام محکموں پر نافذ ہونی چاہیے، جو حل طلب ایشوز ہیں انہیں مل بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی پیکیج سمیت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلوں کے خلاف جماعتی سطح پر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ دوبارہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔
ایک سوال پر راجہ فاروق حیدر خان کا مہاجرین مقیم پاکستان ہمارے وجود کا حصہ ہیں انہیں کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، الیکشن ایکٹ 2020ء اور ترمیمی ایکٹ 2021ء کے تحت عام انتخابات سے 120 دن پہلے کوئی پیکیج یا ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا جا سکتا، اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے پاس تحریری درخواست جمع کروا رہے ہیں،
صدر مسلم لیگ (ن) مظفرآباد پہنچ چکے ہیں، ان کے ساتھ مشاورت کے بعد جماعتی پالیسی کا اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاست کو وقتی نہیں، جامع پالیسی کی ضرورت ہے : سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر
تیرہویں آئینی ترمیم کے حوالے سے دائر رٹ پٹیشنز سے متعلق سوال پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ذاتی حیثیت میں ان پٹیشنز میں فریق بننے کی درخواست جمع کروا دی ہے، سردار عتیق کی جانب سے تیرہویں ترمیم منسوخ کرنے کی استدعا ناقابل فہم ہیں، اس حوالے سے رٹ پٹیشنز دائر کرنے والے کو خود علم نہیں کہ کیا غلط ہوا جس کی اصلاح چاہیے۔
راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب کشمیر کونسل کے ممبران کی رٹ پٹیشن کی وجہ سے التواء کا شکار ہیں۔




