مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ریاست کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی چیلنجز نہایت سنگین نوعیت اختیار کر چکے ہیں، جن کے حل کیلئے وقتی اقدامات نہیں بلکہ ایک جامع اور دیرپا پالیسی کی ضرورت ہے ۔ اگر بروقت اور درست فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں “میٹ دی پریس” پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے ملکی و ریاستی سیاست، ترقیاتی منصوبوں، عدالتی معاملات اور عوامی مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ایسے فیصلے کرے جن سے عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو۔ بدقسمتی سے اس وقت پالیسی سازی میں تسلسل کا فقدان نظر آتا ہے، جبکہ بعض اہم منصوبے تاخیر کا شکار ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پیکجز کا اعلان کرنا آسان ہے لیکن ان پر عملدرآمد ہی اصل امتحان ہوتا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جہاں کمزوری دکھائی دے رہی ہے ۔
راجہ فاروق حیدر خان نے تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے کہا کہ اگر ایجوکیشن پیکج کو میرٹ اور شفافیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو اس سے نوجوان نسل کو بہتر مواقع مل سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام تقرریاں اور سہولیات بلاامتیاز فراہم کی جائیں ۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا کوٹہ سسٹم یا غیر شفاف طریقہ کار نہ صرف نظام کو کمزور کرتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض پالیسیوں کے نتیجے میں ایسے مسائل جنم لے رہے ہیں جن پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔
خاص طور پر ترقیاتی فنڈز، ٹھیکوں کے نظام اور مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مالی نظم و ضبط کو یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں بڑے منصوبوں کی تکمیل ایک خواب بن کر رہ جائے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:13ویں ترمیم چیلنج کرنیوالوں کو شرم آنی چاہیے، عدالت ختم نہیں کرسکتی، فاروق حیدر
عدالتی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی اہم معاملات اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان کے حل کے لیے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ناگزیر ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا احترام سب پر لازم ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض معاملات میں تاخیر سے عوامی مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد بعض کیسز ہائیکورٹ میں منتقل ہوئے ہیں، جہاں ان پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے ۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے ایک حسن ہے، لیکن بدقسمتی سے اسے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے بیانات و اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو سیاسی عدم استحکام کا باعث بنیں ۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں معاشی بحران بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں، وسائل کی کمی اور آمدن و اخراجات کے عدم توازن نے حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا موجودہ مالی وسائل کے ساتھ بڑے ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن ہے یا نہیں، اور اگر نہیں تو اس کا متبادل لائحہ عمل کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قومی اور ریاستی سطح پر یکجہتی کی اشد ضرورت ہے ۔
تمام اداروں، سیاسی جماعتوں اور قیادت کو مل بیٹھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر فورم پر عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فاروق حیدر کو جھٹکا، سردار عتیق خان نے 13ویں آئینی ترمیم چیلنج کردی
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف موجودہ بحرانوں پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ریاست کو ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر مسائل میں اضافہ ناگزیر ہوگا ۔




