آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، گریڈ 1 تا 15 کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم

مظفرآباد: سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے فل بینچ نے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے حوالے سے ہائی کورٹ کے اوپن میرٹ کے فیصلے کو بحال رکھا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے تمام محکمہ جات میں گریڈ 1 تا 15 کی تقرریوں کے خلاف جاری حکمِ امتناعی کو ختم کرتے ہوئے بھرتیوں کا راستہ صاف کر دیا ہے۔

چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان، سنیئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس چوہدری خالد یوسف پر مشتمل سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ قبل ازیں، عدالتِ عظمیٰ نے ایک عبوری حکم کے ذریعے گریڈ 1 تا 15 کی بھرتیوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی، جس کے باعث سرکاری اداروں میں جاری بھرتیوں کا عمل فوری طور پر معطل ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزاد کشمیر کوٹہ کیسز سے متعلق اپیلوں کی سماعت کل کرےگی

حکومت کی جانب سے اس معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر فوری سماعت کی استدعا کی گئی تھی، جس پر عدالت نے 30 اپریل کی بجائے 23 اپریل کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ میں اس سلسلے میں کل 17 اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے 16 اگست 2025 کے اس فیصلے کے خلاف زیرِ غور آیا تھا جس میں سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اپیل کنندگان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ مختلف طبقات کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم سپریم کورٹ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد اب ہائی کورٹ کے اوپن میرٹ کے فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے بھرتیوں پر لگی پابندی ہٹا دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد تمام سرکاری محکموں میں رکا ہوا بھرتیوں کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے گا۔ یاد رہے کہ کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے بعد سے ہی سرکاری ملازمتوں میں تقرری کے طریقہ کار پر قانونی اور انتظامی سطح پر بحث جاری تھی، جو اب سپریم کورٹ کے اس حالیہ حکم کے بعد ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

Scroll to Top