امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا دھچکا، کابینہ کی اہم رکن لوری شاویز مستعفی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اس وقت ایک نئی سیاسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے جب ان کی کابینہ کی اہم رکن اور وزیرِ محنت لوری شاویز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن اسٹیون شیونگ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لوری شاویز کے جانے کے بعد اب نائب وزیرِ محنت عارضی طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، لوری شاویز کا استعفیٰ رضاکارانہ نہیں بلکہ ان پر لگنے والے سنگین الزامات کا نتیجہ ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ماتحت اہلکار کے ساتھ مبینہ تعلقات قائم کیے اور دورانِ ڈیوٹی شراب نوشی کے واقعات میں ملوث رہیں۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف بدعنوانی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی کے حوالے سے بھی تحقیقات کی باتیں سامنے آ رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات : بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملاقات کا خواہشمند ہوں، ٹرمپ

واضح رہے کہ لوری شاویز ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے کے دوران ٹرمپ کابینہ چھوڑنے والی تیسری اہم شخصیت بن گئی ہیں۔ اس سے قبل کرسٹی نوئم اور پام بونڈی بھی اپنے عہدوں سے دستبردار ہو چکی ہیں، جس نے وائٹ ہاؤس کے اندرونی استحکام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کا اس طرح یکے بعد دیگرے مستعفی ہونا صدر ٹرمپ کی حکومتی ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

لوری شاویز، جو کہ لیبر قوانین اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے صدر کی قریبی ساتھی سمجھی جاتی تھیں، گزشتہ چند ہفتوں سے شدید دباؤ میں تھیں۔ آج 21 اپریل 2026 کو سامنے آنے والا یہ استعفیٰ اس وقت آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ اور اندرونی معاشی دباؤ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ کوشش ہے کہ ان استعفوں کے اثرات کو کم سے کم دکھایا جائے، تاہم اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی ان واقعات کو انتظامیہ کی ناکامی قرار دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات میں معاہدہ نہ کیا تو پورا ایران تباہ ہو جائے گا،ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

Scroll to Top