دریائے جہلم پر قدیم معلق پل خستہ حال، عوام کی زندگی خطرے میں

مظفرآباد: ضلع جہلم ویلی اور ضلع مظفرآباد کے درمیان دریائے جہلم پر دھاریاں اور بانڈی کوکیال کے مابین محکمہ لوکل گورنمنٹ کے زیرِ اہتمام تعمیر کیا گیا قدیمی معلق (پیدل) پل حکومتی عدم توجہی کے باعث اب خطرناک حالت اختیار کر چکا ہے۔ یہ پل اب مقامی آبادی کے لیے کسی “پلِ صراط” سے کم نہیں رہا۔ ایک وقت تھا جب یہی پل یونین کونسل ہٹیاں دوپٹہ (اولڈ)، دچھور میراں اور لانگلہ سمیت نصف سے زائد آبادی کو مین روڈ سے ملانے والی واحد گزرگاہ تھا۔

گڑھی دوپٹہ سے براہِ راست گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہونے اور بعد ازاں بانڈی کوکیال سے دھاریاں/چھتر چٹھیاں کے درمیان نجی سطح پر چیئر لفٹ (ڈولی پل) بننے کے بعد اس پل کی اہمیت کم ہوتی گئی، مگر اس کے باوجود یہ آج بھی متعدد دیہات کے لوگوں اور مال مویشیوں کی آمدورفت کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد کے گنجان آباد علاقے لوئر پلیٹ میں گیزر پھٹنے سےزور دار دھماکا، علاقہ لرزا اٹھا

بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران اس پل کے رسے اور حفاظتی پائپ چوری ہو چکے ہیں جبکہ ڈھانچہ بھی ٹیڑھا ہو کر انتہائی خستہ حالت میں پہنچ چکا ہے، جس کے باعث خواتین، بچے اور بزرگ افراد کا اس پر چلنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ کئی بار عوامی نشاندہی اور متعلقہ حکام و منتخب نمائندوں کے نوٹس میں لانے کے باوجود تاحال مرمت کا کام شروع نہیں ہو سکا، جس سے علاقہ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اہلِ علاقہ نے حکومتِ وقت اور متعلقہ ایم ایل اے سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس اہم عوامی گزرگاہ کی فوری بنیادوں پر مرمت اور بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہزاروں افراد کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

مزید پڑھیں: مظفرآباد،حوا کی بیٹی طاقت کی علامت بن گئی، عدالت جاکر انصاف لے لیا

Scroll to Top