جرمنی میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اسناد کی درست اور بروقت تصدیق کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق جرمنی میں نوکری کے لیے درخواست دینے سے قبل امیدواروں کو اپنے تعلیمی ریکارڈ کی جرمن ریکگنیشن سسٹم کے تحت جانچ کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہ ویزا اور ملازمت کے حصول کے عمل میں انتہائی اہم مرحلہ ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ غیرملکی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے لیے جرمنی کا مرکزی نظام انابن (Anabin) استعمال کیا جاتا ہے جسے سنٹرل آفس فار فارن ایجوکیشن چلاتا ہے۔ اس ڈیٹا بیس کے ذریعے تعلیمی اداروں اور ڈگریوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق کسی بھی ادارے کی مکمل منظوری کے لیے اس کا ایچ پلس (H+) اسٹیٹس ہونا ضروری ہے، جبکہ بعض صورتوں میں صرف مخصوص پروگرام ہی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ڈگری کا جرمن تعلیمی معیار کے برابر ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین حکومت کا بڑا فیصلہ: پانچ لاکھ افراد کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ
ویزہ اور ملازمت کے عمل کے لیے امیدواروں کو انابن سے دو علیحدہ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں ادارے کی حیثیت اور ڈگری کی مساوات شامل ہوگی۔ مزید برآں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تعلیمی اسناد کی تصدیق بھی لازمی ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے یا ڈگری کی معلومات انابن میں موجود نہ ہوں تو امیدوار کو زیڈ اے بی (ZAB) سے “اسٹیٹمنٹ آف کمپیریبیلٹی” حاصل کرنا ہوگا، جس کے حصول میں تقریباً تین ماہ تک لگ سکتے ہیں۔ اس لیے درخواست کا عمل بروقت شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں بعض پیشے جیسے طب، قانون اور تدریس کے لیے خصوصی لائسنسنگ اور علیحدہ منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں عمومی تعلیمی تصدیق کافی سمجھی جاتی ہے۔ حکام نے زور دیا ہے کہ تمام دستاویزی تقاضوں کی مکمل اور درست تکمیل نہ صرف تاخیر سے بچاتی ہے بلکہ جرمنی کی لیبر مارکیٹ میں کامیابی کے امکانات بھی بڑھاتی ہے۔




