کوٹہ کیس،سپریم کورٹ کا کیس مکمل کرکے پیش کرنے کا حکم

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں کوٹہ کیس پر اہم پیش رفت، حکومت کی جانب سے دائر فوری سماعت کی درخواست منظور۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ آزادکشمیر نے کیس مکمل کر کے 20 اپریل 2026 کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ،مختلف سیکٹرز میں پراپرٹی کی سرکاری قیمتوں میں 33 فیصد تک کمی ریکارڈ

یاد رہے کہ ہائی کورٹ کے 16 اگست 2025 کے فیصلے کے خلاف 17 اپیلیں زیرِ سماعت ہیں، جبکہ گریڈ 1 تا 15 کی بھرتیوں پر عبوری حکم امتناعی تاحال برقرار ہے۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے 16 اگست 2025 کے فیصلے کے خلاف 17 اپیلیں زیر التوا ہیں جب کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گریڈ 1 سے 15 تک کی بھرتیوں کے خلاف جاری کردہ عبوری حکم امتناعی تاحال برقرار ہے جس کے باعث سرکاری اداروں میں جاری بھرتیوں کا عمل معطل ہے۔

قبل ازیں کوٹہ کیس کی اگلی سماعت 30 اپریل کو مقرر کی گئی تھی۔ تاہم، عدالت نے 20 اپریل کو فوری سماعت مقرر نہیں کی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت کا پاور سیکٹر ملازمین کیلئے مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ

گزشتہ ہفتے آزاد کشمیر حکومت نے سرکاری خدمات میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے متعلق کیس کی فوری سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

آزاد جموں و کشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس حساس نوعیت کا ہے، اس کی اگلی سماعت کی تاریخ طویل ہے، اس لیے اس کی فوری سماعت کی جائے۔

اے جے کے ہائی کورٹ کا فیصلہ

یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے اس وقت آیا جب 16 اگست 2025 کو آزاد جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں، جس میں سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ایک تاریخی فیصلے میں، ہائی کورٹ نے 1989 کے بعد کے مہاجرین کے لیے دہائیوں پرانے کوٹہ سسٹم کو غیر آئینی اور امتیازی قرار دیا۔

جسٹس سردار محمد اعجاز نے 65 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ سرکاری خدمات اور پیشہ ورانہ اداروں میں کوٹہ نافذ کرنے والے تمام نوٹیفکیشنز اور قواعد آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے منافی، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور اسلام کے احکام کے خلاف ہیں۔

درخواست کی منظوری یا مسترد ہونے کا فیصلہ ایڈووکیٹ جنرل کی سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد کیا جائے گا۔

اپیل کنندگان کا موقف تھا کہ کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے مختلف طبقات کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے مزید قانونی وضاحت درکار ہے۔

ابتدائی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد گریڈ 1 سے 15 تک تمام نان جرنلڈ آسامیوں پر ہونے والی تقرریاں عارضی طور پر روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیے۔

عدالتی حکم کے نتیجے میں مختلف سرکاری محکموں میں جاری اور مجوزہ بھرتیوں کا عمل روک دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سے سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کے طریقہ کار پر قانونی اور انتظامی سطح پر بحث جاری تھی جب کہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس کی وجہ سے معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

Scroll to Top