سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد نے مبینہ طور پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان گٹھ جوڑ سے متعلق اہم انکشافات کردئیے ہیں ۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار مبینہ خارجی دہشتگرد ملزم عامر سہیل نے دورانِ تفتیش متعدد بیان دیا کہ وہ پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس گروہ میں شامل ہوا۔ اس کے مطابق اسے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں واقع ایک تربیتی مرکز میں عسکری تربیت دی گئی ۔
ملزم کے بیان کے مطابق افغانستان میں موجود ان مراکز کو مختلف حلقوں کی مبینہ معاونت حاصل رہی ہے ۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نیٹ ورک کے روابط داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں تک بھی پھیلے ہوئے تھے ۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم نے یہ بھی کہا کہ اسے بیرونی ذرائع سے مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی، جن میں ایک غیر ملکی خفیہ ادارے کا نام بھی لیا گیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں بڑی کارروائی، 6 خارجی دہشتگرد واصل جہنم ،دیگر فرار
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے نیٹ ورک میں بیس سے زائد افراد شامل تھے جن میں بعض افغان شہری بھی تھے۔ گرفتار شخص نے اعتراف کیا کہ وہ بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں ملوث رہا ہے ۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کی غرض سے آمد کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا ۔ ملزم کے مطابق مذکورہ گروہ کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ محض مالی اور سیاسی مقاصد کے لیے سرگرم ہے ۔
دوسری جانب سکیورٹی اور بعض تجزیاتی حلقوں کی رائے ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں ۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر اور مختلف غیر ریاستی گروہوں کے درمیان ممکنہ روابط پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے 2 کامیاب آپریشنز، 13 دہشت گرد ہلاک
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے تاکہ صورتحال کے تمام پہلو واضح ہو سکیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں یا انکشافات سامنے آنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا رہا ۔




