چوہدری لطیف اکبر کا بطور قائم مقام صدارتی عہدہ ہائیکورٹ میں چیلنج

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی بطور صدر ریاست فرائض کی انجام دہی کے عمل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔

مقدمہ بعنوان سید علی عبداللہ ایڈووکیٹ وغیرہ بنام چوہدری لطیف اکبر/سپیکر اسمبلی وغیرہ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 9 کی رو سے سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر بطور قائم مقام صدر ریاست فرائض انجام نہیں دے سکتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ آزادکشمیر:پٹواریوں کی بھرتی انکوائری ، ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل

درخواست گزاروں میں سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے ممبران سید علی عبداللہ ایڈووکیٹ، عمر نشاط بانڈے ایڈووکیٹ اور اکمل حسین جرال ایڈووکیٹ شامل ہیں، جنہوں نے آئینی نکات اٹھاتے ہوئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔

مقدمہ میں چوہدری لطیف اکبر بطور سپیکر اسمبلی، سیکرٹری اسمبلی، الیکشن کمیشن، لاء ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ سروسز کو فریق بنایا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی بندرگاہوں کیخلاف جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دینگے، پاسداران انقلاب

درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ آئینی تشریح کے مطابق سپیکر اسمبلی کا بیک وقت قائم مقام صدر کے فرائض انجام دینا آئین سے متصادم ہے لہٰذا اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست گزاروں کی پیروی فیاض خان ایڈووکیٹ اور راجہ ذوالقرنین عابد ایڈووکیٹ کر رہے ہیں۔ عدالت کی جانب سے ابتدائی سماعت کے بعد مزید کارروائی متوقع ہے، جبکہ اس اہم آئینی معاملے پر قانونی حلقوں میں بھی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

Scroll to Top