مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل )وزیر مذہبی امور اوقاف و اطلاعات چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور کے احکامات کی روشنی میں حکومت نے ریاست بھر کے مدارس میں بچوں کے تحفظ کیلئے نئی پالیسی نافذ کردی ہے ۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے، شکایات بکس ، طبی معائنہ، معیار کے مطابق اساتذہ کی اہلیت کو لازمی قرار دیدیا ہے۔
وزیر مذہبی امور، اوقاف و اطلاعات چوہدری محمد رفیق نئیر نے پالیسی بارے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت تمام مدارس کو ہدایت کی گئی ہے کہ درسگاہوں، راہداریوں، صحن، دفاتر اور دیگر مقامات پر معیاری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیئے جائیں جو ہر وقت فعال حالت میں ہوں اور ان کی ریکارڈنگ کم از کم 30 دن تک محفوظ رکھی جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بینک آف آزادکشمیر کے صدر کی عدم تعیناتی، حکومت کو دو ہفتے کی مہلت
ہر مدرسہ کیلئے تحریری چائلڈ پروٹیکشن پالیسی مرتب کرنا لازمی ہوگا جس میں بچوں کے حقوق، اساتذہ و عملہ کے ضابطہ اخلاق اور ممنوعہ رویوں کی واضح وضاحت شامل ہوگی۔
اس پالیسی کو نمایاں مقام پر آویزاں کیا جائے گا اور تمام اساتذہ و عملہ سے اس کی تحریری منظوری لی جائے گی۔
طلباء کے تحفظ کیلئے ہر مدرسہ میں خفیہ شکایتی بکس نصب کیا جائے گا جس کی چابی صرف ضلعی انتظامیہ کے مجاز افسران کے پاس ہوگی۔
شکایتی بکس کو باقاعدگی سے ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں کھولا جائے گا اور موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے شکایت کنندہ کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرخزانہ کی زیرصدارت اہم اجلاس، منگلا ڈیم متاثرین کو پلاٹ الاٹمنٹ کا فیصلہ
پالیسی کے مطابق مدارس میں طلبہ کا سرپرائز طبی معائنہ بھی کروایا جائے گا جو ضلعی ہیلتھ آفیسر کی نگرانی میں تشکیل دی گئی میڈیکل ٹیم انجام دے گی۔
کسی بھی مشتبہ کیس کی فوری رپورٹ مرتب کر کے متعلقہ حکام کو ارسال کی جائے گی جبکہ متاثرہ طلبہ کو فوری طبی اور نفسیاتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
پالیسی کے مطابق تعلیمی معیار اور بچوں کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ہر قاری اور استاد کے لیے مستند ادارے سے حاصل کردہ تدریسی سند لازمی قرار دی گئی ہے۔
تقرری سے قبل اس سند کی تصدیق، کردار کی جانچ اور سابقہ ریکارڈ کی پڑتال بھی لازمی ہوگی۔ منفی یا مشکوک ریکارڈ رکھنے والے کسی بھی فرد کو تدریس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ ان احکامات پر عملدرآمد کی نگرانی ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور وزارت مذہبی امور مشترکہ طور پر کریں گے تاکہ مدارس میں بچوں کے تحفظ سے متعلق حکومتی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ مدرسہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں رجسٹریشن کی معطلی یا منسوخی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
وزیر مذہبی امور نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر بچوں کے تحفظ، معیاری دینی تعلیم اور مدارس کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور یہ پالیسی ریاست کے تعلیمی و دینی اداروں میں اصلاحات کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔




