خواجہ فاروق کا وزیراعظم فیصل راٹھور سے اظہار تشکر، بڑے مطالبات بھی کر دیئے

مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ،پارلیمانی لیڈر خواجہ فاروق احمد نے رشید آباد مانک پیاں کیمپ پل کی منظوری پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیااور مزید منصوبوں کا بھی مطالبہ کردیا ہے۔

خواجہ فاروق کا کہنا تھا کہ مین روڈ سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور عوام کو مانک پیاں ائیرپورٹ روڈ رام پورہ وغیرہ جانے کے لیے متبادل راستہ فراہم کرنے کیلئے پل کا منصوبہ رکھا گیا جس پر پی ٹی آئی کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد سے تعمیراتی کام کا رکوادیا گیا تھا۔

اب اسی منصوبہ کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے منظور کرنا خوش آئند ہے ،یہی پل اگر کام نہ رکوایا جاتا تو 4 کروڑ میں مکمل ہوجانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کے آبائی حلقہ کیلئے تاریخی منصوبے منظور

خواجہ فاروق احمدنے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی دشمنی میں 3سال عوام کو متبادل سفری سہولت سے محروم رکھنے اور اب مزید 7کروڑ 50 لاکھ روپے کی اضافی لاگت سے پل مکمل ہوگا جبکہ اضافی فنڈز پر خرچ ہونے پڑے ہیں کا ذمہ دار کون ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور حکومت میں پلیٹ کے عوام کو بہترین سفری سہولیات دینے کے لیے ٹاہلی منڈی نیلم پارک سے لوئر پلیٹ جیپ ایبل پل کا بھی تخمینہ مرتب کرواکر اس کا پی سی ون بھی تیار کرالیا تھا بعد ازاں پی ٹی آئی کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد التواء کا شکار ہوگیا،

متذکرہ پل کا پی سی ون بھی تیار ہے اگر وزیراعظم جاتے جاتے اس کے لیے بھی فنڈز مختص کردیں تو پلیٹ کے عوام کو ایک بہترین سفری سہولت میسر آئے گی اور سی ایم ایچ روڈ سے بھی ٹریفک کا دباؤ ختم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پی این ڈی کے پاس 10 ارب روپے موجود ہے جس میں سے اس پل کے لیے ابتدائی طورپر 2 کروڑ روپے کم از کم مختص مختص کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح راقم کی دور وزارت میں شہر کی خواتین کے لیے بلدیہ کا 10کنال کا رقبہ الگ کر کے فاطمہ جناح فیملی پارک کا سنگ بنیاد رکھ کر اس کی ایک طرف سے روڈ چار دیواری دے دی گئی تھی تو اب ایک روڑ روپے موجودہ 10ارب روپے میں سے کم از کم مختص کر کے اس پارک پر دوبارہ کام شروع کرایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور سے لاہور میں کشمیری کمیونٹی کی ملاقات،اہم اعلانات

سی ایم ایچ فلائی اوور کی جلداز جلد تعمیر کے لیے اور گزشتہ تین سالوں میں الاٹ کیے گئے CNW کے ٹھیکہ جات جن پر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کام کی رفتاربہت سست ہے،2ارب روپے موجودہ 10ارب روپے میں سے دیے جاسکتے ہیں تاکہ ٹھیکیدار اپنے بقایا جات کے لیے ہڑتال نہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ پی این ڈی کے پاس فنڈز کی دستیابی کی وجہ سے درج بالا تجاویز بہترین عوامی مفاد میں دی ہیں وزیراعظم اگر ان پر منظوری دیں تو تمام التواء میں پڑے تعمیراتی منصوبہ جات پر تیزی سے کام شروع ہوسکے گا اور عوام کو بہترین سفری سہولیات میسر آجائیں گی۔

Scroll to Top