صدر ٹرمپ کا ایران کو نیا الٹی میٹم: ڈیڈلائن میں توسیع، تباہ کن حملوں کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں اضافے کا اشارہ دے دیا ہے، جس کے تحت تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے، معاہدہ کرنے یا پھر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنے کے آپشنز دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں “منگل رات آٹھ بجے، ایسٹرن ٹائم” لکھا، جس کا مطلب جی ایم ٹی کے مطابق بدھ کی رات 12 بجے بنتا ہے۔ اس حساب سے ایران کو مزید 24 گھنٹے کی مہلت مل گئی ہے کہ وہ امریکی صدر کو قائل کرے یا پھر اپنے پاور پلانٹس اور پلوں کو خطرے میں ڈالے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف متنازع بیان، ٹرمپ کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا،امریکی اینکرز بھی الفاظ دہرا نہ سکے

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جہاں جنگ کا آغاز ہوا، وہیں ایران نے تیل کی عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو بھی بند کر رکھا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے نئی مہلت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “ہم ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں، اگر وہ خوش قسمت ہوئے اور ان کے پاس ملک باقی رہا تو اس کی تعمیر نو میں 20 برس لگیں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر منگل کی رات تک کچھ نہ کیا گیا تو ایران کے پاس بجلی گھر رہیں گے اور نہ ہی کوئی پل سلامت بچے گا۔ فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سب کچھ اڑا کر تیل پر قبضہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو “موت سے استثنیٰ” دے رکھا ہے تاکہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ کرنے کے نکتے پر بات کر سکیں۔

دوسری جانب ایران نے ان دھمکیوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کی جانب سے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اصل حل ایرانی عوام کے حقوق کے احترام میں ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ان دھمکیوں کو عوام کو دہشت زدہ کرنے اور جنگی جرائم کا ارادہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ادھر ایران کے اتحادی روس نے بھی ان دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ “الٹی میٹم کی زبان” ترک کر کے مذاکرات کی طرف واپس آئے۔

 

Scroll to Top