ایران

ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا، ابراہیم ذوالفقاری

تہران: ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے اور حالات ان کیلئے نہایت سنگین ہو جائیں گے ۔

ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی مزید جارحیت کا جواب محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کا ردعمل پورے خطے میں پھیلے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کا تصور اب ایک پیچیدہ دلدل بن چکا ہے، جس میں داخل ہونے والے خود اس میں پھنس سکتے ہیں اور نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی برادری کو ایران جنگ ختم کرانے کی کوششیں دُگنا کرنا ہوں گی : ترک صدر

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئےہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے نتائج دور رس اور خطرناک ہو سکتے ہیں ۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس صرف 48 گھنٹے ہیں کہ وہ یا تو کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے یا پھر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بصورت دیگر ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کے 4 صدور نے ایران پر حملے کی نیتن یاہو کی درخواست پر کیا ردعمل دیا؟ وائٹ ہاؤس کے سابق چیف کے بڑے انکشافات

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور خصوصاً تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ حالیہ کشیدگی اور ایران پر حملوں کے بعد اس راستے کی بندش نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس سے توانائی کی سپلائی اور معیشت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے ۔

Scroll to Top