اسلام آباد میں حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر علی پرویز نے بتایا کہ بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے مارکیٹیں جلد بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
تفصیلات کے مطابق اگر یہ فیصلہ منظور ہو گیا تو شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے برعکس دیگر تمام مارکیٹیں اس وقت سے پہلے ہی بند کر دی جائیں گی۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے بجلی اور ایندھن کے استعمال میں واضح کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرسائیکل مالکان کو فی لیٹر پیٹرول پر 100روپے سبسڈی کیسے ملے گی؟طریقہ کار جانئے
وفاقی وزیر نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ جلد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات پر بات چیت ہوگی۔ حکومت عالمی اداروں کو آگاہ کرے گی کہ ملک بڑے مالی دباؤ کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے معاشی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے 3.5 ارب ڈالر پاکستان میں جمع کروا رکھے ہیں۔ اگر یہ رقم واپس مانگی گئی تو حکومت اس کے لیے مکمل تیار ہے۔ توانائی کے بحران پر انہوں نے کہا کہ قطر سے گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد فوری اقدامات کیے گئے۔ اب مقامی گیس فیلڈز سے 400 سے 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد عوام اور صنعت کو گیس کی قلت سے بچانا ہے۔




