راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل): وادیِ راولاکوٹ کی یونین کونسل پاچھوٹ سے تعلق رکھنے والے 76 سالہ ضعیف العمر شخص محمد انور خان اپنے اکلوتے بیٹے کی واپسی کی آس لیے آٹھ سال سے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ کشمیر ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کے دوران اپنے لاپتہ بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے محمد انور خان فرطِ جذبات سے رو پڑے۔
محمد انور خان نے اپنی دردناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ان کا اکلوتا بیٹا گزشتہ آٹھ برسوں سے پراسرار طور پر لاپتہ ہے، جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود ایک سال سے شدید بیمار ہیں اور اب ان کے لیے درست طریقے سے بات کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضعیف عمری اور بیماری کے باوجود وہ اپنے جگر گوشے کی تلاش میں ہر دروازے پر دستک دے چکے ہیں، لیکن اب تک انہیں صرف مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ: محکمہ موسمیات کا4 اپریل تک الرٹ جاری
غمزدہ والد نے حکومتِ پاکستان، آزاد کشمیر انتظامیہ، آئی جی پولیس اور دیگر مقتدر اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے بیٹے کو تلاش کرنے میں مدد کی جائے۔ محمد انور خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں سے قبل صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا زندہ ہے یا اسے کسی حادثے کا سامنا کرنا پڑا، تاکہ ان کے دل کو قرار آ سکے۔ مقامی عوامی و سماجی حلقوں نے بھی محمد انور خان کی پکار پر انتظامیہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔




