پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تیاری: وفاق اور صوبوں کا سبسڈی کا بوجھ بانٹنے پر اتفاق

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جس کا اطلاق آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کا بوجھ جزوی طور پر صارفین پر منتقل کرنا ہے، جبکہ صوبائی حکومتوں سے بھی سبسڈی کے بوجھ میں حصہ ڈالنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اجلاس کا مقصد ایندھن پر ٹارگٹڈ سبسڈی کے لیے ایک مربوط فریم ورک تیار کرنا ہے تاکہ موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں جیسے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں چند دنوں کے اندر اضافہ کر دیا جائے گا اور اس اضافے کا حجم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کی نقل و حرکت پر منحصر ہوگا۔ حکام بین الاقوامی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا پورا اثر صارفین پر منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم مخصوص گروہوں کے لیے ریلیف کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی، توانائی بحران بڑھنے کاخدشہ

حکومتی تخمینوں کے مطابق، درآمدی لاگت کے مقابلے میں پیٹرول کی موجودہ قیمت میں تقریباً 100 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پیٹرول کی قیمت میں مکمل ایڈجسٹمنٹ کی جائے اور ڈیزل کے فرق کا تقریباً نصف حصہ صارفین پر منتقل کیا جائے، جس کا حتمی فیصلہ رواں ہفتے پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے حسابات کے بعد کیا جائے گا۔ حکومت گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایندھن پر تقریباً 129 ارب روپے کی سبسڈی خود برداشت کر چکی ہے اور اب مجموعی سپورٹ کو 158 ارب روپے تک محدود کرنے کا منصوبہ ہے، جس کی وجہ سے صوبوں پر ریلیف کے اقدامات میں حصہ ڈالنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مشاورت کے بعد وفاقی حکومت نے صوبوں سے سبسڈی کا بوجھ بانٹنے کی درخواست کی ہے۔ پنجاب اور سندھ سے توقع ہے کہ وہ این ایف سی فارمولے کے تحت آبادی کے تناسب سے حصہ ڈالیں گے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ایندھن کی کھپت کی بنیاد پر شرکت کریں گے۔ صوبائی حکومتوں نے اصولی طور پر موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کے لیے وزیراعظم کی جانب سے راشننگ کے طریقہ کار کا اعلان متوقع ہے۔ سندھ ’ہری کارڈ‘ ڈیٹا بیس کے ذریعے کسانوں کو ڈیزل پر سپورٹ فراہم کرے گا، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی اسی طرح کے پروگراموں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: موٹرسائیکل اور رکشہ والوں کیلئے پیٹرول سبسڈی،صوبوں سے 154ارب مانگ لئے گئے

پالیسی سازوں کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات ایک بڑی تشویش ہیں، کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مال برداری کے کرایوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جو براہِ راست اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کا سبب بنے گا۔ صوبوں نے بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) سسٹمز کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے بڑے شہروں سے باہر قیمتوں میں تفاوت پیدا ہو سکتا ہے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے لیے ہفتہ وار 15 سے 18 ارب روپے درکار ہوں گے، جو عالمی رجحانات کے مطابق 30 ارب روپے تک بھی جا سکتے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ جون میں مالی سال کے اختتام تک یہ بوجھ مل کر برداشت کیا جا سکتا ہے، تاہم عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اجلاس کا اختتام پیٹرولیم قیمتوں کی اصلاحات کے حصے کے طور پر ایک مربوط سبسڈی میکانزم تیار کرنے کے اتفاق پر ہوا تاکہ مالیاتی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

Scroll to Top