بیجنگ: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید جنگ کو اب پانچ ہفتے مکمل ہونے والے ہیں، جس کے بعد اس عالمی کشیدگی کے تناظر میں دنیا بھر کی نگاہیں ایک بار پھر چین کی جانب مبذول ہو گئی ہیں۔ اس نازک صورتحال میں پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مل کر ایک اہم پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس کا مقصد خطے میں قیامِ امن اور اہم تنصیبات کا تحفظ ہے۔
گذشتہ روز ہونے والی اس اہم ملاقات کے بعد جاری کردہ پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیے میں فوری طور پر جنگ بندی، باقاعدہ مذاکرات کے آغاز، شہری انفراسٹرکچر اور حساس تنصیبات کے تحفظ سمیت آبنائے ہرمز جیسے عالمی سطح پر اہم بحری راستوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ اعلامیہ وسیع پیمانے پر سفارتی تجاویز تو پیش کرتا ہے، مگر تاحال اس میں چین کی جانب سے براہِ راست ثالثی یا کسی واضح کردار کا کوئی باضابطہ ذکر نہیں کیا گیا، جس سے بیجنگ کی محتاط پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ وخلیج میں امن ،پاکستان اور چین کے فارمولے کے 5نکات کونسے ہیں؟
خیال رہے کہ چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا عالمی خریدار ہے اور خلیج کی سمندری راہداریوں پر گہرا معاشی انحصار کرتا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس حالیہ بحران کو اپنے وسیع تر معاشی مفادات کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود بیجنگ کا رویہ اب تک خاصا محتاط دکھائی دیتا ہے، کیونکہ چین نے نہ تو تاحال مذاکرات کی میزبانی کی کوئی باقاعدہ پیشکش کی ہے اور نہ ہی کُھل کر فریقین کے درمیان ثالثی کی کوئی بڑی کوشش سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں: گرنے سے ’ہیئر لائن فریکچر‘ کے باوجود اسحاق ڈار نے ملاقاتیں جاری رکھیں: علی ڈار
ایسے میں یہ سوالات گردش کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں چین کا اصل کردار کیا ہو سکتا ہے؟ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، اپنی ناساز طبعی کے باوجود ترکی، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں سے تفصیلی مشاورت مکمل کرنے کے فوراً بعد بیجنگ پہنچے ہیں۔ اب عالمی برادری یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا چین واقعی ایران کے لیے ایک ‘ضامن’ کے طور پر سامنے آئے گا یا اپنی موجودہ خاموشی کو برقرار رکھے گا۔




