تہران / اسلام آباد : اسلامی جمہوریہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے پاکستان کی حالیہ متحرک سفارتی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ ایرانی حکام نے اسلام آباد کے اس کردار کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے نہ صرف مثبت بلکہ ایک ‘ناگزیر’ قدم قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کا اہم بیان:
ایرانی وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ وزیر اور جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل، محمد رضا بہرامی نے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ تہران ان تمام اقدامات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جو مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی یہ کوششیں امریکہ اور صیہونی حکومت کی جاری جارحیت کے خاتمے کے لیے ہیں، جو تہران کے ‘جائز حقوق’ کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکا کی کچھ تجاویز پر اتفاق کرلیاہے ، ترجمان وائٹ ہائوس
پاکستان کا متوازن اور کلیدی موقف:
محمد رضا بہرامی کے مطابق، موجودہ جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے دور میں پاکستان کا یہ متحرک کردار قابلِ تحسین ہے اور یہ کشیدگی میں کمی اور استحکام کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں اپنی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے اور تمام عالمی و علاقائی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
عالمی سطح پر اسلام آباد کا بڑھتا ہوا قد کاٹھ:
سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے اس کھلی حمایت کے بعد عالمی سطح پر اسلام آباد کے سفارتی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوگا۔ 2026 کا یہ سال ایران اور پاکستان کی ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں خطے میں ایک پائیدار سیاسی حل کی نوید لے کر آ سکتا ہے۔ عالمی برادری بھی ان بدلتے ہوئے حالات اور پاکستان کے ‘متوازن موقف’ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔




