پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن 11 میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان ہونے والا مقابلہ ایک نئے تنازع کی نذر ہو گیا ہے۔ میچ کے آخری اوور میں بال سے چھیڑ چھاڑ (بال ٹیمپرنگ) کے الزامات کے بعد لاہور قلندرز پر 5 رنز کی پنالٹی لگا دی گئی ہے۔ اس صورتحال پر ٹیم کے تجربہ کار آل راؤنڈر سکندر رضا نے پریس کانفرنس میں اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔
سکندر رضا نے واضح کیا کہ آخری اوور میں جو کچھ ہوا اس کی اصل حقیقت امپائرز ہی بتائیں گے۔ سکندر رضا نے یقین دلایا کہ انہوں نے خود کچھ نہیں کیا اور میچ ریفری نے انہیں اس معاملے پر طلب نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل،بال ٹیمپرنگ پر فخر زمان کو لیول تھری جرم پر چارج کر دیا گیا
سکندر رضا کا کہنا تھا کہ وہ پیدائشی طور پر پاکستانی ہیں اس لیے ان کی فیملی اور دوست ملنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار پروٹوکولز میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں جن کا انہیں علم نہیں تھا۔ انہوں نے ہی کپتان شاہین شاہ آفریدی سے کہا تھا کہ ان کی فیملی آئی ہے اس لیے شاہین کا کوئی قصور نہیں کیونکہ وہ سکندر رضا کے کہنے پر ہی وہاں گئے تھے۔ سکندر رضا نے مزید کہا کہ اس سارے معاملے سے پی سی بی کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور انہیں افسوس ہے کہ ٹیم اپنی اننگز کا اختتام اچھا نہیں کر سکی۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق فیلڈ امپائرز فیصل آفریدی اور شرف الدولہ نے دیکھا کہ گیند کی حالت بدلی گئی ہے۔ اس پر انہوں نے فوراً گیند تبدیل کی اور قلندرز کو سزا کے طور پر 5 رنز کی پنالٹی لگا دی۔ آخری اوور میں کراچی کنگز کو جیت کے لیے 14 رنز چاہیے تھے لیکن پنالٹی کے بعد یہ ہدف کم ہو کر صرف 9 رنز رہ گیا۔ کپتان شاہین آفریدی نے اس فیصلے پر امپائر سے بحث بھی کی۔ اب امپائرز کی رپورٹ میچ ریفری روشن ماہنامہ کو بھیج دی گئی ہے جو شاہین آفریدی کو بلا کر سماعت کریں گے۔ اس کے بعد ہی انفرادی پابندی یا جرمانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔




