امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون ایران کے خلاف جاری جنگ کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کرنے کے لیے کئی ہفتوں پر محیط زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔
ہفتے کے روز امریکی حکام کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ منظوری سے یہ آپریشن شروع ہو سکتا ہے، تاہم ابھی یہ حتمی طور پر واضح نہیں کہ صدر ان منصوبوں پر دستخط کریں گے یا نہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے 5ویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس منصوبے کی منظوری دیتے ہیں تو یہ جنگ کا ایک نیا اور زیادہ خطرناک مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ملک گیر مظاہرے، لاکھوں افراد کی شرکت
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر چکی ہے، جبکہ 82ویں ایئربورن ڈویژن سے ہزاروں مزید فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔ ان اقدامات کو ممکنہ زمینی آپریشن کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ کارروائیوں میں اسپیشل فورسز کے محدود نوعیت کے چھاپے شامل ہو سکتے ہیں، جن کا ہدف حساس فوجی تنصیبات، اسلحہ کے ذخائر اور اسٹریٹجک مقامات ہو سکتے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ مکمل پیمانے کی جنگ یا وسیع فوجی یلغار نہیں ہوگی بلکہ ایک محدود اور ہدفی آپریشن ہو سکتا ہے۔
مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ساحلی علاقوں پر کارروائیوں پر غور کیا ہے، جبکہ گزشتہ ماہ جزیرہ خارک پر قبضے کے امکان پر بھی بات چیت کی گئی۔ ماہرین کے مطابق جزیرہ خارک ایران کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم مرکز ہے، اور اس پر کنٹرول حاصل کرنا عالمی توانائی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان فوجی تیاریوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق زیر غور زمینی آپریشن کا ممکنہ دورانیہ 2 ماہ تک ہو سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ سیاسی اور سفارتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: خطے کے ممالک امن چاہتے ہیں تو دشمنوں کو اپنی زمین نہ دیں،ایرانی صدر
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران میں محدود زمینی کارروائی بھی کرتا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس ہوں گے۔ اس سے نہ صرف ایران کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے بلکہ خطے میں موجود دیگر ممالک اور غیر ریاستی عناصر بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز اور ایرانی ساحلی علاقوں میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس کسی بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔




