مظفرآباد:عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر (شریعت اپیلٹ بینچ) نے فوجداری اپیل محمد نصیر بنام محمد رفیق وغیرہ میں اپیل کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کلعدم قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر، جسٹس سردار لیاقت حسین اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل بنچ نے سنایا، جبکہ تحریری فیصلہ چیف جسٹس جسٹس سردار لیاقت حسین نے تحریر کیا۔
یہ بھی پڑھیں:نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو بیوی کے مانگنے پر مہر دینا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ
استغاثہ کے مطابق، 9 دسمبر 2017 کو مدعی محمد نصیر ایک شادی میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ گاؤں کھاری کے مصروف راستے پر ملزمان محمد رفیق اور محمد مقصود نے راستہ روک کر اس پر حملہ کر دیا۔
ملزمان نے مدعی کے گلے سے مفلر اتار کر اس کا چہرہ ڈھانپ لیا، انہیں زمین پر گرایا اور ڈنڈوں اور چاقو سے شدید تشدد کا نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں مدعی کے دونوں ہاتھ فریکچر ہو گئے۔
تحصیل کورٹ حویلی کہوٹہ نے 12 فروری 2020 کو ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھاجسے مدعی نے عدالت العالیہ میں چیلنج کیا۔
عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ، عینی گواہوں کے بیانات اور میڈیکل شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا اور استغاثہ کے شواہد کو مجموعی طور پر قابلِ اعتماد قرار دیا۔
عدالت نے اپنی آبزرویشن میں واضح کیا کہ استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں معمولی نوعیت کے تضادات کی بنیاد پر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کرنا عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر آزادکشمیرکے انتخاب کے طریقہ کار کیخلاف ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر
عدالت نے ملزمان محمد رفیق اور محمد مقصود کو جرم ثابت ہونے پر گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے پانچ، پانچ سال قید اور فی کس 50,000 روپے بطور دَمان مدعی کو ادا کرنے کا حکم دیا، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید تین ماہ قید ہوگی۔
مزید برآں، APC کی دفعہ 341 کے تحت ہر ملزم کو ایک ماہ قید اور 10,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
یہ فیصلہ عدالتی تشریحات اور شواہد کی اہمیت کے لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ چھوٹے تضادات یا معمولی خامیوں کی بنیاد پر مقدمہ مسترد یا ملزمان کو بری نہیں کیا جا سکتا۔




