سونے کی قیمتوں کو ریورس گیئر : عالمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتیں اچانک نیچے آ گئیں

عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج ایک بڑا یوٹرن دیکھنے میں آیا ہے، جہاں قیمتوں میں نمایاں کمی نے حالیہ دنوں میں جاری تیزی کے رجحان کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ بزنس ماہرین کے مطابق عالمی معاشی دباؤ، ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع نکالنے کے رجحان نے سونے کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 110 ڈالر کی نمایاں کمی کے بعد 4455 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ہے، جو گزشتہ روز کی تیزی کے برعکس ایک بڑا ریورسل قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی سطح پر سونا 152 ڈالر مہنگا ہو کر 4565 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا تھا۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں میں بھی واضح طور پر نظر آئے، جہاں ایک تولہ سونا 11 ہزار روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 68 ہزار 262 روپے پر آ گیا۔ اس سے قبل ایک تولہ سونے کی قیمت 15 ہزار 200 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 79 ہزار 262 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو 9430 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 1 ہزار 459 روپے ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ روز یہی قیمت 13 ہزار 31 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 10 ہزار 889 روپے تک جا پہنچی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کہاں پہنچ گیا؟

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ایک تولہ چاندی 340 روپے سستی ہو کر 7484 روپے پر آ گئی، جبکہ ایک روز قبل یہ 370 روپے اضافے کے بعد 7824 روپے کی سطح پر موجود تھی۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اس اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور عالمی بانڈز کی ییلڈ میں بہتری ہے۔ ماہرین کے مطابق جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمت عموماً نیچے آتی ہے کیونکہ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے بجائے دیگر منافع بخش شعبوں کی جانب رجحان کرتے ہیں۔ تاہم، ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی سیاسی کشیدگی اور مہنگائی کے خدشات سونے کی قیمتوں پر مسلسل اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ مقامی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس اچانک کمی کے بعد خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کار فی الحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top