حکومتِ پاکستان نے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام، خصوصاً موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کے لیے سستے پیٹرول کی فراہمی کا بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول کی فراہمی کو ایک ڈیجیٹل کوٹہ سسٹم کے تحت منظم کیا جا رہا ہے۔
اس مجوزہ منصوبے کے تحت موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو رعایتی قیمتوں پر پیٹرول فراہم کیا جائے گا، تاہم اس تک رسائی صرف منظور شدہ صارفین کے لیے ایک مخصوص کوٹے تک محدود ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد ان لاکھوں لوگوں کے مالی اخراجات میں کمی لانا ہے جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے دو یا تین پہیوں والی سواریوں پر انحصار کرتے ہیں۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق حکومت نے ایک موبائل ایپ پر مبنی ڈیجیٹل کوٹہ سسٹم وضع کیا ہے، جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے کام کرے گا۔ اس نظام کے ذریعے صارفین اپنی گاڑی کی رجسٹریشن اور شناختی کارڈ کی تفصیلات کے ذریعے رعایتی ایندھن تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ صارفین موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ڈیجیٹل واؤچرز تیار کریں گے، جنہیں پیٹرول پمپس پر تصدیق کے بعد کوٹے کے مطابق ایندھن فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے کا ارداہ نہیں ہے، علی پرویزملک
حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صارف اپنے مقررہ کوٹے سے زیادہ ایندھن لینا چاہے گا تو اسے صرف منظور شدہ مقدار ہی رعایتی قیمت پر ملے گی۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی وجہ سے سپلائی چین میں پیدا ہونے والے مسائل کے دوران ایندھن کے استعمال کو منظم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ فی الحال اس منصوبے کا محور موٹر سائیکلیں اور رکشے ہیں، لیکن 800 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی راشننگ کے لیے بھی ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی ایپ تیار کی جا رہی ہے جس میں ہر شہری اپنی گاڑی اور شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ رجسٹر ہوگا۔ حکومت ہر شہری کے لیے اس کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرے گی۔ تقابلی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔
صوبائی سطح پر حکومتِ پنجاب بھی پیٹرول کی تقسیم کے لیے کوپن سسٹم متعارف کرانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ محکمہ توانائی کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس حوالے سے اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں، جن کے تحت صوبے میں وفاقی ماڈل پر ایندھن کی راشننگ کی جا سکتی ہے۔ اس کوپن یا ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے پیٹرول اور ڈیزل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا اور مخصوص گاڑیوں کو مخصوص دنوں میں ایندھن فراہم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔




