کشمیری خواتین، بچے ایران کی مدد کیلئے میدان میں آگئے،زیورات،گُلک تک عطیہ

سرینگر(کشمیر ڈیجیٹل)سری نگر میں کشمیری خواتین اور بچے ایران کی مدد کیلئے میدان میں آگئے ۔

عینی شاہدین کے مطابق امدادی مراکز پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بعض خواتین اپنی محدود جمع پونجی دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم تیز، پی ٹی آئی،پیپلزپارٹی کی مشکلات میں اضافہ

بڑی چندہ مہم جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ایرانی عوام کی مدد کیلئے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے بڈگام سمیت مختلف علاقوں میں کمیونٹی رہنماؤں اور عمائدین کی جانب سے امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں لوگ نقد رقم، سونا، گھریلو سامان اور حتیٰ کہ مویشی بھی عطیہ کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کہاں پہنچ گیا؟

امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق نوجوان رضاکار گھر گھر جا کر چندہ جمع کر رہے ہیں۔ اس دوران خواتین نے بھی اپنے قیمتی زیورات جیسے سونے کی بالیاں، چوڑیاں اور انگوٹھیاں پیش کر دی ہیں۔

کئی خاندانوں نے روایتی تانبے کے برتن اور دیگر گھریلو اشیاء بھی عطیہ کیں، جبکہ بچوں نے بھی اپنے گلک توڑ کر اپنی جمع پونجی اس مہم کے حوالے کر دی۔


کچھ بچوں نے اپنے نئے نویلے کھلونے تک پیش کردیئے۔

عینی شاہدین کے مطابق امدادی مراکز پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بعض خواتین اپنی محدود جمع پونجی دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔

ایک خاتون شازیہ بتول نے کہا کہ اس کا دل ایران کے ساتھ ہے اور وہ اپنی واحد سونے کی بالیاں عطیہ کر رہی ہے، کیونکہ اس کے مطابق مدد کرنا ان کا فرض ہے۔


یہ امدادی سرگرمیاں خاص طور پر عیدالفطر کے موقع پر زیادہ تیز ہوئیں، لوگوں نے روایتی خوشیوں کے بجائے اس دن کو خدمت اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دی۔

ایک رضاکار مقصود علی کے مطابق کئی لوگوں نے عید کی تقریبات کو سادگی سے منایا اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔


رپورٹ کے مطابق کچھ صاحب حیثیت افراد نئی دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے امدادی اکاؤنٹ میں براہ راست رقوم بھی جمع کرا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد اس اقدام کو انسانی اور مذہبی فریضہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری عوام کے اس اقدام پر شکریہ ادا کیا ہے اور اسے یکجہتی کی ایک اہم مثال قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ امدادی مہم نہ صرف انسانی ہمدردی کی عکاس ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات دور دراز علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں، جہاں لوگ اپنے وسائل کے مطابق متاثرہ افراد کی مدد کے لیے آگے آتے ہیں۔

Scroll to Top