مہاجرین

بیوی کو حق مہر دینے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ آ گیا

لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو حق مہر دینے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔

جسٹس عابد حسین چٹھہ نے فاطمہ بی بی کی درخواست پر سماعت کے بعد 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نکاح نامے میں حق مہر کی ادائیگی کا وقت درج نہ ہونے کی صورت میں بیوی کے مانگنے پر شوہر مہر کی رقم ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: 1989 مہاجرین بحالی کوٹا کیس : عدالت نے حکمِ امتناعی جاری کر دیا

یاد رہے کہ درخواست گزار نے شوہر سے نان نفقہ، جہیز اور 5 تولہ سونے کے مہر کی وصولی کا دعویٰ کیا تھا، جس پر فیملی کورٹ نے 5 ہزار ماہانہ خرچ اور مہر کا حکم دیا لیکن جہیز کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ بعد ازاں فریقین نے ٹرائل کورٹ سے رجوع کر لیا۔

ٹرائل کورٹ نے خرچ برقرار رکھا اور جہیز کے عوض ڈھائی لاکھ روپے دینے کا حکم دیا، تاہم مہر کا دعویٰ ختم کر دیا۔

بعد ازاں درخواست گزار نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ مہر سے متعلق فیصلہ غلط ہے اور ان کا حق مارا گیا ہے۔

عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کا مہر کے معاملے میں فیصلہ غلط قرار دیا اور فیملی کورٹ کا مہر والا فیصلہ بحال کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب ہونے لگیں،ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی بات چیت کی تصدیق ہوگئی

عدالت نے واضح کیا کہ میاں بیوی کی شادی ختم نہ بھی ہو تو بیوی حق مہر کی حقدار ہے۔ عدالت نے جہیز کا فیصلہ بھی برقرار رکھا۔

Scroll to Top