‘طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں’: افغان نوجوانوں کا نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے قیام کا اعلان

افغانستان کی سیاسی صورتحال نے ایک نیا اور حساس رخ اختیار کر لیا ہے جہاں نوجوانوں کی جانب سے طالبان حکومت کے خلاف ‘نیشنل موبلائزیشن فرنٹ’ کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس نئے اتحاد کا بنیادی مقصد افغان طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس تنظیم کا قیام طالبان کی مبینہ جابرانہ پالیسیوں، سخت گیر قوانین اور عوامی آزادیوں پر قدغنوں کے ردعمل میں عمل میں آیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان کی بڑی آبادی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے اور نوجوان نسل خود کو بے اختیار محسوس کر رہی ہے۔ فرنٹ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی پالیسیوں کے ذریعے ملک کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے اب ان کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا۔

یہ بھی پرھیں: آپریشن غضب للحق ، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے

تنظیم نے مزید کہا کہ ملک میں میڈیا پر سخت سنسر شپ نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود تشدد اور اسلحے کے استعمال کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے سوویت یونین کے خلاف ماضی کی مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں بھی ایسی ہی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو افغان عوام کا حقیقی نمائندہ نہ سمجھیں اور عوام کی آواز پر کان دھریں۔ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وطن کے بیٹے اور بیٹیاں دوبارہ اٹھیں گے تاکہ ملک کو آزاد اور خوشحال بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس تنظیم کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم یہ پیش رفت افغانستان میں ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی جانب ایک بڑا اشارہ ہے۔

مزید پڑھیں: 78سالہ تاریخ کی غلطیوں میں افغانیوں کی مہمان نوازی فاش غلطی ہے،خواجہ آصف

Scroll to Top