پیٹرولیم مصنوعات اور ٹرانسپورٹ کرایوں کے بعد مرغی کا گوشت بھی مہنگا، عوام کی چیخیں نکل گئیں

ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب اشیائے خوردونوش کے نرخوں کو بھی پر لگ گئے ہیں۔ عید کے قریب آتے ہی پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے متوسط طبقے کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

پشاور سمیت بیشتر علاقوں میں عیدالفطر کے قریب آتے ہی بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ مرغی کا گوشت، سبزیاں اور پھل اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پرائس کنٹرول کے دعوے صرف کاغذوں تک محدود نظر آتے ہیں۔

مرغی کی قیمت میں بڑا جمپ:
پولٹری مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران زندہ مرغی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ محض سات دنوں میں فی کلو قیمت میں 45 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد زندہ مرغی کی قیمت 405 روپے فی کلو کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ عید کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پیچھے سے سپلائی کم ہونے کے باعث قیمتیں بڑھانا ان کی مجبوری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی بیرل قیمت 102 ڈالر سے تجاوز کر گئی

سبزیاں اور پھل بھی سستے نہ رہے:
صرف گوشت ہی نہیں، بلکہ سبزی منڈی میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ ٹماٹر، پیاز اور آلو سمیت روزمرہ استعمال کی سبزیوں میں 20 سے 30 روپے فی کلو تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح پھلوں کے نرخوں میں بھی 50 روپے فی کلو تک کی بڑی چھلانگ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سیب، کیلا اور آڑو جیسے پھل اب متوسط طبقے کے لیے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔

شہریوں کا احتجاج اور انتظامیہ سے مطالبہ:
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال عید سے قبل مصنوعی مہنگائی کی روایت دہرائی جاتی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ خریداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں میں نرخوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ غریب عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

مزید پڑھیں: عیدالفطر پر مسافروں کی سہولت کے لیے اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

دکانداروں کا دفاع:
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ خود منڈیوں سے مہنگے داموں مال خرید رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور منڈی میں مال کی کمی کی وجہ سے وہ سرکاری نرخ نامے پر اشیاء فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر فوری طور پر انتظامی مداخلت نہ ہوئی تو عید کے قریب قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

Scroll to Top