ملا ہیبت اللہ

ملا ہیبت اللہ کی ہلاکت کی تمام خبریں بے بنیاد ہیں

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی مبینہ ہلاکت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور من گھڑت قرار دے دیا گیا ہے، “آزاد فیکٹ چیک” نے اپنی تحقیق میں واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پھیلائی جانے والی یہ معلومات گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں مخصوص اہداف پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان مقامات کو بھی ہدف بنایا گیا جنہیں مختلف عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں قندھار کے علاقے میں موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ انفراسٹرکچر اور سازوسامان کے ذخائر افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر کے زیر استعمال تھے اور انہیں مختلف کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاک افواج کی جانب سے کیے گئے ان حملوں میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ جاری کی گئی ویڈیو میں بھی ان کارروائیوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں جن میں مخصوص مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ان فضائی حملوں کا مقصد دہشت گردوں کے ایسے مراکز اور سہولتوں کو ختم کرنا تھا جہاں سے انہیں تکنیکی مدد اور سازوسامان فراہم کیا جاتا تھا۔ قندھار میں موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج کی تباہی کو اس کارروائی کا اہم نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق ، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملوں کی ویڈیو جاری

سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ تمام کارروائیاں آپریشن “غضب للحق” کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ اس آپریشن کے تحت دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھی جائیں گی جب تک مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی مبینہ ہلاکت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور من گھڑت قرار دے دیا گیا ہے  “آزاد فیکٹ چیک” نے اپنی تحقیق میں واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پھیلائی جانے والی یہ معلومات گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ پاکستان کے حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم آزاد فیکٹ چیک نے اس دعوے کی تحقیقات کے بعد اسے مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ یہ خبر دراصل جھوٹی اور گھڑی ہوئی معلومات پر مبنی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

آزاد فیکٹ چیک کے مطابق ایکس پر گردش کرنے والے پیغامات اور پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی حملوں کے نتیجے میں افغان طالبان کے سربراہ مارے گئے ہیں۔ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس دعوے کی کوئی مصدقہ بنیاد موجود نہیں اور یہ محض غلط معلومات کے پھیلاؤ کی ایک مثال ہے۔

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ خیریت سے بھی ہیں۔ اس لیے ان کی ہلاکت سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ اور افواہوں پر مبنی ہیں۔ آزاد فیکٹ چیک کے مطابق اس طرح کی غلط معلومات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل جاتی ہیں جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی جانب سے دشمن کیخلاف بڑی کارروائی ، قندھار سے سرحدی علاقوں تک طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنادیا

آزاد فیکٹ چیک نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والے تمام دعوے بے بنیاد اور من گھڑت ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ زندہ اور خیریت سے ہیں۔

Scroll to Top