حکومتِ پاکستان نے ملک میں کفایت شعاری اور ایندھن کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کیلئے نئے انتظامی اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیرِاعظم نے ایندھن کے تحفظ اور اضافی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی کیلئےقائم کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلوں کی منظوری د یدیہے ۔
اعلامیے کے مطابق یہ اقدامات کابینہ ڈویژن کی پہلے سے جاری ہدایات کے تسلسل میں کیے جا رہے ہیں ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اداروں میں اخراجات کم کرنا اور توانائی کے استعمال میں احتیاط برتنا ضروری ہو گیا ہے، جس کے لیے مختلف عملی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔
ان اقدامات کے تحت ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی اعلیٰ انتظامیہ کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کی جائے گی ۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق تمام قانونی و خودمختار اداروں، نگران تنظیموں اور ریاستی ملکیتی اداروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی اعلیٰ قیادت پر ہوگا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوام کو ریلیف پہنچائیں گے،شہبازشریف کاپیٹرولیم قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان
یہ کٹوتی ان افسران پر لاگو ہوگی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جن میں چیف ایگزیکٹو افسران، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور دیگر سینئر منتظمین شامل ہیں ۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق تنخواہوں میں کی جانے والی کٹوتی سے حاصل ہونے والی رقم ’’وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ‘‘ میں جمع کرائی جائے گی ۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس فنڈ کا مقصد کفایت شعاری کی پالیسیوں کے نفاذ اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے ۔
اعلامیے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ تنخواہوں میں کمی کی شرح مختلف عہدوں کے مطابق مقرر کی جائے گی اور حاصل ہونے والی رقم براہِ راست مذکورہ فنڈ میں منتقل کی جائے گی ۔
حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری اخراجات کو کم کرنا اور توانائی کے استعمال میں ذمہ داری کو فروغ دینا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی شہزادہ محمد سے ملاقات،پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ کھڑا رہیگا، شہبازشریف کا اعلان
اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی بھی کی جائیگی تاکہ قومی وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکے ۔




