آزاد کشمیر کابینہ کا بڑا فیصلہ:سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پیٹرول میں 50 فیصد کٹوتی، تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان

مظفر آباد: وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی حالیہ معاشی صورتحال کے پیش نظر انقلابی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔

اجلاس کے آغاز میں افواجِ پاکستان کے شہداء، ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور تحریکِ آزادی کشمیر کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔ کابینہ نے حالیہ بین الاقوامی صورتحال اور معاشی ناہمواریوں کے تناظر میں وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی مکمل توثیق کرتے ہوئے انہیں بھرپور انداز میں سراہا۔

وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت کابینہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ اس دوران حکومت کے وزراء، مشیران اور معاونینِ خصوصی تنخواہیں نہیں لیں گے، جبکہ اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے وہ سرکاری افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے، ان کی 4 دن کی تنخواہ کاٹ کر عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ مزید برآں، دیگر اخراجات میں بھی 20 فیصد کمی لائی جا رہی ہے اور سرکاری محکموں میں فرنیچر، ایئر کنڈیشنر و دیگر اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی ہو گی۔ کسی بھی ضروری خریداری کے لیے کابینہ کی منظوری لازم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر کے عوام پاک افواج کیساتھ ہیں، دشمن کی ساری غلط فہمیاں دور کرینگے،وزیراعظم فیصل راٹھور

کابینہ نے وزراء اور افسران کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور ایندھن بچانے کے لیے آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے۔ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر ‘ون ڈش’ کی پابندی ہوگی اور کانفرنسیں ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارات میں ہوں گی۔ انتہائی ضروری سروسز کے علاوہ تمام سرکاری و نجی اداروں کا 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔ دفاتر ہفتے میں صرف 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی دی جا رہی ہے، تاہم اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا۔

تمام اسکولوں کو 31 مارچ تک بند کر کے دو ہفتوں کی چھٹیاں دے دی گئی ہیں، جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے انفراسٹرکچر کے لیے 2 ارب روپے اور ریسکیو 1122 کے فیلڈ اسٹاف کے لیے رسک الاؤنس کی منظوری بھی دی گئی۔ آخر میں وزیر اطلاعات چوہدری محمد رفیق نیئر کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظور کی گئی جس میں افواجِ پاکستان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، ایران پر بیرونی جارحیت کی مذمت کی گئی اور تحریکِ آزادی کشمیر کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس ، تنخواہوں، مراعات میں کمی کا عندیہ

Scroll to Top