مظفرآباد ( کشمیر ڈیجیٹل)صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے 30 روز بعد بھی آزاد جموں و کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب کیلئے شیڈول جاری نہ ہو سکا۔
آئینی عہدے پر عدم تعیناتی ریاستی عہدے کی بے توقیری سے تعبیر، حکومت اورالیکشن کمیشن پر سوالات اٹھنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر:سابق صدر بیرسٹرسلطان کی وفات کے 30 دن بعد بھی صدارتی عہدہ خالی
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے سیکرٹری قانون ساز اسمبلی کو باقاعدہ مکتوب ارسال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انتخاب کے لیے موصولہ تحریر میں مجاز اتھارٹی کی ہدایت شامل نہیں، جبکہ صدر کے عہدہ خالی ہونے سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن بھی منسلک نہیں کیا گیا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق آئین کے تحت صدر کی وفات کے باعث عہدہ خالی ہونے کی صورت میں سپیکر اسمبلی پر لازم ہے کہ 30 روز کے اندر انتخاب کے انعقاد کو یقینی بنائیں، تاہم آئینی مدت کا تعین اس تاریخ سے مشروط ہے جس روز عہدہ خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہو۔
یاد رہے کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 31 جنوری کو انتقال کر گئے تھے اور تیس روز گزرنے کے باوجود نئے صدر کا انتخاب عمل میں نہیں لایا جا سکا۔
الیکشن کمیشن نے مزید واضح کیا کہ انتخابی قوانین کے تحت صدر کے انتخاب کا انعقاد اور نگرانی کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر 20 فروری 2026 کو حلف اٹھا کر ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن کو کمزوری سمجھنے والے مضبوط جواب کیلئے تیار رہیں،صدر زرداری کا دوٹوک پیغام
کمیشن نے مجاز اتھارٹی سے ضروری وضاحت اور مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی عمل کو آئین و قانون کے مطابق مکمل قانونی تحفظ کے ساتھ آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔
صورتحال پر سیاسی و قانونی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور فوری پیش رفت کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔




